بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، کیا یورپ تیار ہے؟
👁️ 86 بار دیکھا گیا
بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، کیا یورپ تیار ہے؟
برسلز (ڈیلی اردو/رائٹرز/اے ایف پی/ڈی ڈبلیو) پولستانی وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک یورپ کو لاحق سکیورٹی خدشات میں اضافے اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ ممکنہ انتخابی فتح جیسے معاملات کے تناظر میں جرمنی اور فرانس کا دورہ کر رہے ہیں۔
یوکرینی جنگ اب تیسرے برس میں داخل ہونے والی ہے، دوسری جانب ڈونڈ ٹرمپ یورپی اتحادیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نیٹو کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہے ہیں، ایسے میں یورپی یونین میں سکیورٹی اور تحفظ کے اعتبار سے خود انحصاری جیسے مطالبات نے جنم لیا ہے۔
وارسا، برلن اور پیرس میں حکومتیں ایسی صورت حال میں دفاع کے معاملے پر یورپی اتحادپر زور دیتی ہیں اور اسی تناظر میں ستائیس رکنی یورپی یونین یوکرین کی امداد میں اضافے پر غور کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں رونما ہوتی سیاسی تبدیلیوں کا یوکرینی تنازعے کے مستقبل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
پولستانی حکومت کے ایک ذریعے کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز نے لکھا ہے، ”یورپ کو اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ اگرامریکہ میں آئندہ ٹرمپ جیتے، تو یورپی لائحہ عمل کیا ہو گا؟ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ہمیں دفاعی صنعت کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔‘‘
اس ذریعے کے مطابق یورپ کو فوری طور پر اسلحہ اور بارود سازی کے شعبے میں مل کر کام کرنا ہو گا اور پولینڈ ‘اسٹریٹیجک خود مختاری‘ کی کوششوں کو بلاک نہیں کرے گا تاکہیورپ کا دیگر ممالک اور خطوں پر انحصار کم ہو۔
جرمنی میں پولینڈ سے تعاون کے امور کی سربراہی کرنے والے سرکاری اہلکار ڈیٹمار نیٹان کے مطابق، ”یہ پہلا موقع ہے کہ پولستانی حکومت کہہ رہی ہے کہ مشترکہ یورپی دفاعی صلاحیتیں مضبوط نیٹو سے متصادم نہیں ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ پولینڈ میں آٹھ سال تک قوم پرست حکومت کے دور میں جرمنی اور پولینڈ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی رہی تھی۔ پولینڈ میں سن 2015 سے 2023 تک کے دوران برلن حکومت کو ایک دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا رہا اور توانائی سے لے کر مہاجرت تک کے تمام مسائل کا موجب جرمنی کو قرار دیا جاتا رہا تھا۔
تاہم پولینڈ میں ڈونلڈ ٹسک کے وزیر اعظم بنتے ہی ایک مرتبہ پھر جرمنی، فرانس اور پولینڈ کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹسک ماضی میں یورپی یونین کی کونسل کے صدر بھی رہ چکے ہیں، جب کہ جرمنی، فرانس اور پولینڈ کے درمیان اشتراک عمل کا معاہدہ ‘وائیمار تکون‘ کہلاتا ہے، جو سن 1991 میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ان تینوں ممالک کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات پائے جاتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران کے خلاف جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے، گولہ بارود کی خریداری پر 29 ارب ڈالر خرچ
28/October/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
شام میں دمشق۔حمص شاہراہ پر ڈرون حملہ، القاعدہ سے منسلک سابق تنظیم کا کمانڈر سمیت 3 افراد ہلاک
28/October/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں سرحد پار سے گولہ باری، ایک شہری ہلاک، 5 زخمی؛ پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی
28/October/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
برطانیہ میں ایران کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں 2 افراد پر فردِ جرم عائد
27/October/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
بنوں میں امن کمیٹی کے رکن کی گاڑی پر بم حملہ، بیٹا ہلاک، 3 افراد زخمی
27/October/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز کے مشرق میں تیل بردار جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، ایرانی بحریہ کا دعویٰ
27/October/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26407 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15645 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11942 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9306 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7559 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5528 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C