بھارت کا جرمنی سے 8 ارب ڈالر مالیت کی جدید آبدوزیں حاصل کرنیکا منصوبہ
👁️ 256 بار دیکھا گیا
بھارت کا جرمنی سے 8 ارب ڈالر مالیت کی جدید آبدوزیں حاصل کرنیکا منصوبہ
برلن (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) بھارت اپنی بحریہ کو جدید بنانے کے لیے نئی طرز کی جرمن آبدوزیں حاصل کرنے جا رہا ہے، جنہیں بھارت میں ہی تیار کیا جائے گا۔ تقریباً 8 بلین ڈالر مالیت کے اس معاہدے پر رواں موسم گرما میں دستخط متوقع ہیں۔ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔
ہند بحرالکاہل خطہ تیزی سے عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں آبدوزیں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت اور پاکستان و چین کے درمیان مضبوط ہوتے دفاعی تعلقات نے بھی بھارت کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
بھارت کے پاس 11 ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی موجود ہے جبکہ اس کی 90 فیصد سے زیادہ تجارتی سرگرمیاں سمندری راستوں سے انجام پاتی ہیں۔ تاہم بحر ہند میں کئی اہم آبی گزرگاہیں بھی موجود ہیں، جہاں کسی بھی رکاوٹ سے بھارتی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
نئی دہلی میں تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) کی اسٹریٹیجک اسٹڈیز پروگرام کی نائب ڈائریکٹر شیئری ملہوترا کے مطابق، ''ہند بحرالکاہل میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا بھارت کے لیے انتہائی اہم ہے، اسی لیے وہ اپنی بحری طاقت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ نئی آبدوزیں بھارت کی زیر آب جنگی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لائیں گی۔‘‘
بھارت کی بحری دفاعی توسیع کا بڑا سبب اس کے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسائے چین اور پاکستان ہیں۔ چین اس وقت تقریباً 400 جنگی جہازوں کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی بحری قوت بن چکا ہے۔ اگرچہ اس کی بنیادی توجہ تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین پر مرکوز ہے، لیکن اس نے بحر ہند میں بھی اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان بھی چینی تعاون سے اپنی آبدوزوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ معاہدے کے تحت آٹھ جدید آبدوزیں حاصل کرنے والا ہے۔ ان میں سے چار چین جبکہ چار پاکستان ہی میں چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی جا رہی ہیں۔
اگرچہ بھارت مغربی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ کر رہا ہے، تاہم اس نے روس سے اپنے تعلقات ختم نہیں کیے۔ 1960 کی دہائی کے بعد سے بھارت کی فوجی ضروریات کی تکمیل بڑی حد تک سوویت یونین اور بعد ازاں روس پر ہی منحصر رہی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران فرانس، اسرائیل اور امریکہ بھارت کے اہم دفاعی شراکت دار بن کر ابھرے ہیں، جبکہ جرمنی بھی اس فہرست میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی چیف پولیٹیکل رپورٹر نینا ہازے کے مطابق، ''یہ معاہدہ جرمنی کے لیے تجارتی لحاظ سے اہم ضرور ہے، لیکن اس کے پیچھے اصل محرک جغرافیائی سیاست ہے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے بھارت کو روسی دفاعی مصنوعات کے متبادل دستیاب ہوں گے، جو جرمنی کے لیے اس وقت اہم ہے جب روس یوکرین کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کو روس سے مکمل علیحدگی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
جرمنی کے ساتھ مجوزہ معاہدہ صرف آبدوزوں کی فروخت تک محدود نہیں ہو گا بلکہ جرمن ٹائپ 214 آبدوزیں ممبئی میں بھارتی انجینئرز تیار کریں گے، جنہیں جرمن ماہرین تربیت فراہم کریں گے۔ اس کا مطلب حساس دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ہے، جو عام طور پر بہت محدود پیمانے پر کی جاتی ہے۔
شیئری ملہوترا کے مطابق، ''آبدوزوں کی ٹیکنالوجی ہمیشہ سے ایک انتہائی محفوظ شعبہ رہی ہے۔ بھارت کا مقصد اپنی مقامی مہارت کو فروغ دینا، دفاعی صنعت کو مضبوط بنانا اور غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنا ہے۔‘‘
بھارت کے لیے یہ معاہدہ مضبوط دفاعی صلاحیت، روزگار کے نئے مواقع اور دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نئی دہلی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ بحر ہند میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب جرمنی کے لیے یہ معاہدہ نہ صرف بڑے تجارتی فوائد کا باعث بنے گا بلکہ اسے انڈو پیسیفک خطے کی سلامتی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی روایتی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کو برقرار رکھے گا۔ جرمن آبدوزوں کی خریداری کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت جرمنی، یورپی یونین یا نیٹو کا خصوصی اتحادی بن جائے گا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان : پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں کا حملہ، جوابی کارروائی میں 3 حملہ آور ہلاک
04/September/2026 👁️ 42 بار دیکھا گیا
قلات : سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 12 دہشتگرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ
04/September/2026 👁️ 34 بار دیکھا گیا
بنوں : ڈومیل میں سیکیورٹی آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک، 4 آئی ای ڈیز ناکارہ
04/September/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
ایرانی حکومت کا خاتمہ اسرائیل کا اہم ہدف، نظام کمزور ہوچکا ہے، جلد گرا سکتے ہیں: نیتن یاہو
04/September/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
کوئٹہ کینٹ میں پولیس اہلکاروں کے داخلے پر مبینہ پابندی ، کینٹ پاس طلب
03/September/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، اسلحہ برآمد
03/September/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26274 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15522 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11802 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9099 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7388 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5064 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C