19/January/2026

تیراہ آپریشن زور زبردستی اور بدمعاشی سے شروع کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی

👁️ 250 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تیراہ آپریشن زور زبردستی اور بدمعاشی سے شروع کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی

تیراہ آپریشن زور زبردستی اور بدمعاشی سے شروع کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی

پشاور (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے مشران اور عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع خیبر کی امن و امان کی صورتحال اور وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ کے متاثرین کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ان کی قربانیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک منظم سوچ موجود ہے جو پشتون اور بالخصوص قبائلی عوام کو مین سٹریم نظام کا حصہ نہیں بننے دینا چاہتی۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے ہی ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا، لیکن عوامی حمایت سے انھوں نے ہر بیانیے کو شکست دی۔

انھوں نے کہا کہ عوام سے بندوق کے بجائے قلم دینے کا وعدہ کیا ہے اور ملک کے دفاع کے لیے وہ صفِ اول میں کھڑے ہوں گے۔ ’جب بھی قوم پر مشکل وقت آیا ہے، میں چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑا رہا ہوں۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے عوام کو اتنا شعور دیا ہے کہ وہ حقیقت اور منافقت میں فرق جانتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ تیراہ متاثرین کی مدد کے لیے پوری قوم متحد ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد بھی سوال یہ ہے کہ امن کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے۔

 

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے فیصلے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن کیا گیا جو مسائل کا حل نہیں ہے‘۔

 

جرگے کے دوران مشران نے امن کی بحالی اور متاثرین کی باعزت واپسی سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ نے متاثرین کو سہولت فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے اور کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

 

بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں تیراہ متاثرین کے لیے قائم رجسٹریشن سنٹر کا دورہ کیا۔ انھوں نے متاثرین سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور فوری حل کے لیے حکام کو ہدایات دیں۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

 

انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے تقریباً 70 سال تک بغیر تنخواہ کے سرحدوں کی حفاظت کی، لیکن ریاست وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریجیم چینج کے بعد دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا اور عوام کو جبری طور پر گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کسی بھی صورت تجربہ گاہ نہیں ہیں۔ ’یہ پالیسی ماضی میں بھی ناکام رہی اور آئندہ بھی ناکام رہے گی۔ عوامی حمایت کے بغیر کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C