16/December/2025

خیبر: وادی تیراہ میں مقامی افراد کی علاقہ چھوڑنے پر مشروط آمادگی

👁️ 150 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر: وادی تیراہ میں مقامی افراد کی علاقہ چھوڑنے پر مشروط آمادگی

خیبر: وادی تیراہ میں مقامی افراد کی علاقہ چھوڑنے پر مشروط آمادگی

خیبر (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے شورش زدہ صوبے  خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی دور افتادہ وادی تیراہ کے مقامی افراد نے علاقہ چھوڑنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم امن و امان کی بحالی اور نقل مکانی کے لیے 27 نکات پر مشتمل شرائط نامہ پیش کیا گیا ہے۔

 

اس حوالے سے اتوار کے روز وادی تیراہ میں آفریدی قبائل کا جرگہ منعقد ہوا، جس میں ملک دین خیل، قمبر خیل، اکاخیل اور دیگر قبائل کے 24 سرکردہ قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

 

جرگے کے رکن ملک کمال الدین نے بتایا کہ گزشتہ تین سے چار برسوں سے علاقے کے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں، جہاں مختلف مسلح تنظیموں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران بے گناہ شہری بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین متعدد بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ آبادی والے علاقوں میں پرتشدد سرگرمیاں نہ کی جائیں، تاہم ان مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

 

ملک کمال الدین کے مطابق گزشتہ ماہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے سامنے بھی غیر اعلانیہ کرفیو اور گولہ باری روکنے کا مطالبہ رکھا گیا تھا، لیکن صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

 

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے گزشتہ چھ ماہ سے مقامی افراد کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں، تاہم اب نقل مکانی مخصوص شرائط کے ساتھ ہی ممکن ہو گی۔

جرگے کی اہم شرائط

 

جرگے کی جانب سے پیش کی گئی اہم شرائط میں شامل ہیں

 

دو ماہ کے اندر مقامی افراد کی واپسی کی تحریری ضمانت

 

تیراہ میں کسی قسم کی امن یا ویلج کمیٹی قائم نہ کی جائے

 

امن و امان کی مکمل ذمے داری حکومت اور سکیورٹی اداروں پر ہو

 

نقل مکانی کے لیے مقامی افراد کو ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے

 

ہر خاندان کو پانچ لاکھ روپے نقد اور ایک لاکھ روپے ماہانہ دیے جائیں

 

آپریشن کے بعد مستقبل میں کسی بھی فوجی کارروائی کی ضمانت دی جائے

 

ملک کمال الدین کے مطابق بعض علاقوں میں اب بھی دو دن کے لیے کرفیو نافذ ہے، لوگ جزوی طور پر گھروں سے نکل رہے ہیں، تاہم مکمل اور منظم نقل مکانی اس وقت تک نہیں کی جائے گی جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

 

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اسلام گل آفریدی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے باعث طویل عرصے سے مقامی افراد کو علاقہ چھوڑنے کا کہا جا رہا تھا۔

 

ان کے مطابق جرگہ آخری آپشن کے طور پر بلایا گیا، تاہم مقامی افراد کو حکومتی وعدوں پر تحفظات ہیں، کیونکہ ماضی میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین تاحال معاوضوں کے حصول کے لیے دربدر ہیں۔

 

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول وادی تیراہ، ٹانک اور باجوڑ میں بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں پر مقامی سطح پر احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

 

گزشتہ چند ماہ کے دوران شہری ہلاکتوں کے کم از کم دو بڑے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جولائی میں وادی تیراہ میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی ہلاک ہوئی، جس کے بعد احتجاج کے دوران فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

 

اسی طرح جولائی میں ہی باجوڑ میں عسکری کارروائیوں کے دوران تین شہری ہلاک ہوئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C