28/February/2026

خیبر پختونخوا کے مختلف پولیس اسٹیشن اور چوکیوں پر دہشت گردوں کے حملے

👁️ 170 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا کے مختلف پولیس اسٹیشن اور چوکیوں پر دہشت گردوں کے حملے

خیبر پختونخوا کے مختلف پولیس اسٹیشن اور چوکیوں پر دہشت گردوں کے حملے

پشاور (ڈیلی اردو/ بی بی سی) پاکستان کے شورش زدہ صوے خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب شدت پسندوں کی جانب سے پشاور سمیت صوبے بھر کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر حملے کیے گئے جن میں ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

 

ایک بیان میں پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایک تھانے پر ’دستی بم پھینکا گیا جس کے نتیجے میں روزنامچہ میں موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہوا‘۔ جبکہ تھانہ متنی کی حدود میں بھی ’دستی بم حملے میں ایک شہری زخمی ہوا۔‘

 

ان کے مطابق خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے پولیس کی تنصیبات پر ’ہینڈ گرینیڈ اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے حملے کیے۔‘ جبکہ شدت پسندوں نے بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پی پی کنگر پل پر ’مختلف سمتوں سے سنائپر رائفلز کے ذریعے حملہ کیا۔‘

 

اس کا مزید کہنا ہے کہ تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ کیا گیا جہاں پولیس کی ’جوابی کارروائی کی‘ اور فائرنگ ’15 منٹ تک جاری رہی۔‘

 

پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر ’نامعلوم شرپسندوں نے دستی بم پھینکا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

 

خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان سبھی حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے اور شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کی گئی ہے۔

 

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ’یہ شرپسند صرف جھاڑیوں میں چھپ کر وار کرنا جانتے ہیں اور ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ سامنے آ کر مقابلہ کر سکیں۔ جیسے ہی انھیں پولیس کی جانب سے بھرپور اور آہنی جواب ملتا ہے، یہ بزدلوں کی طرح میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C