27/September/2026

سعودی عرب کے جوہری پروگرام پر امریکی تشویش، خفیہ جائزے نے نئے سوالات اٹھا دیے

👁️ 54 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب کے جوہری پروگرام پر امریکی تشویش، خفیہ جائزے نے نئے سوالات اٹھا دیے

سعودی عرب کے جوہری پروگرام پر امریکی تشویش، خفیہ جائزے نے نئے سوالات اٹھا دیے

ریاض (ڈیلی اردو) سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام نے امریکا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور امریکی ارکانِ کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریاض مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی سمت بڑھ سکتا ہے۔ ایک خفیہ امریکی جائزے میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سویلین جوہری تعاون سے متعلق معاہدہ طے پا چکا ہے۔ اس تعاون کے تحت امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے شہری جوہری پروگرام کی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے، جبکہ ریاض کو اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کی صلاحیت پیدا کرنے کا راستہ بھی مل سکتا ہے۔ یہی پہلو امریکی قانون سازوں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث بنا ہے۔

سعودی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ بجلی کی پیداوار اور دیگر پُرامن شہری مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم امریکا میں بعض ارکانِ کانگریس کا سوال ہے کہ اگر ریاض کا مقصد صرف شہری جوہری توانائی ہے تو اسے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی اور جوہری ایندھن کی دوبارہ تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔

امریکی قانون سازوں ایڈ مارکی اور جیف مرکلے نے اس معاملے پر وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط بھی لکھا ہے۔ ان کی جانب سے جوہری سرگرمیوں پر زیادہ سخت بین الاقوامی نگرانی اور سعودی عرب کی جانب سے افزودگی و ری پروسیسنگ کی صلاحیت حاصل کرنے کی خواہش سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی سویلین جوہری توانائی اور جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار مواد کی تیاری، دونوں میں استعمال ہو سکتی ہے۔ تاہم صرف افزودگی کی صلاحیت حاصل کر لینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کوئی ملک جوہری بم تیار کر چکا ہے یا لازماً ایسا کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی اسی راستے پر جانے پر غور کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ بیان نیا نہیں، تاہم موجودہ امریکی خفیہ جائزے اور سعودی عرب کے جوہری منصوبوں میں پیش رفت نے اس معاملے کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان کا پہلو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کا واحد جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے اور حالیہ عرصے میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی تعاون میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ خبر کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آ چکا ہے کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کا جوہری پروگرام سعودی عرب کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے، جس کے بعد خطے میں بدلتے ہوئے دفاعی اور جوہری توازن پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C