01/November/2026

محسن رضائی کو جے ڈی وینس کا خط موصول، امریکی مؤقف میں بڑی تبدیلی کا دعویٰ

👁️ 60 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
محسن رضائی کو جے ڈی وینس کا خط موصول، امریکی مؤقف میں بڑی تبدیلی کا دعویٰ

محسن رضائی کو جے ڈی وینس کا خط موصول، امریکی مؤقف میں بڑی تبدیلی کا دعویٰ

تہران (ڈیلی اردو) ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے تصدیق کی ہے کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہو گیا ہے، جس کا انہوں نے مطالعہ بھی کر لیا ہے، تاہم تہران نے تاحال اس کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔ محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام کے لہجے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اسے ایران کی طاقت اور کامیابی کی علامت قرار دیا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ انہوں نے جے ڈی وینس کا خط پڑھ لیا ہے، لیکن ابھی اس کا جواب نہیں دیا۔ ان کے بقول امریکی مؤقف اور طرزِ گفتگو پہلے کے مقابلے میں مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قوم نے اپنی فتح اور طاقت کو مستحکم کر لیا ہے۔

محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران کی جوہری پالیسی میں تبدیلی سے متعلق حکومت یا سپریم قومی سلامتی کونسل کی جانب سے تاحال کوئی نیا باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم اگر مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو اس صورت میں موجودہ جوہری پالیسی برقرار رکھنے یا اس پر نظرثانی کرنے کے معاملے پر اندرونی سطح پر بحث جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے ذہنوں میں بھی اس حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنے اور نگرانی کے عمل میں تعاون کیا، اس کے باوجود ایرانی جوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر معائنے اور نگرانی کے باوجود تنصیبات پر حملے کیے جانے ہیں تو ایران کو اپنی سابقہ پالیسی اسی طرح جاری رکھنے کی ضرورت کیوں ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوششیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق جے ڈی وینس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر محسن رضائی کو خط بھیجا تھا، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوبارہ آغاز اور ممکنہ نئی فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خط قطری ثالثوں کے ذریعے ایرانی قیادت تک پہنچایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر نے ممکنہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو بنیادی موضوع بنانے پر زور دیا ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے لیے قطر یا ترکیہ کو ممکنہ مقام کے طور پر زیرِ غور لائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق خط کے مکمل مندرجات عام نہیں کیے گئے، تاہم امریکی اور ایرانی ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات میں اسے مذاکرات کے ممکنہ فریم ورک اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط کے مقصد کے بارے میں مختلف وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا تعلق ایران کو طبی سامان کی فراہمی میں مدد دینے سے ہے۔

ایران کی شرائط اور جوہری پروگرام کا معاملہ

ایرانی حکام اس سے قبل بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے تہران کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ ان مطالبات میں جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور ایران کے جوہری حقوق کو تسلیم کرنا شامل ہیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کی اعلیٰ سطح پر یورینیم افزودگی اور جوہری سرگرمیوں کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بھی ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل نگرانی اور معائنوں تک رسائی کے معاملے پر مسلسل زور دیتی رہی ہے۔ اس تنازع کے باعث جوہری پروگرام امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی اختلافات کا بنیادی موضوع بنا ہوا ہے۔

محسن رضائی کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف سفارتی رابطوں کا جائزہ لے رہا ہے تو دوسری جانب ممکنہ نئی جنگ کی صورت میں اپنی جوہری حکمت عملی پر نظرثانی کے امکان کو بھی زیر بحث رکھے ہوئے ہے۔ تاہم ایرانی حکام کے مطابق جوہری پالیسی تبدیل کرنے کا کوئی حتمی سرکاری فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C