01/November/2026

ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا، سفارت کاری کو ترجیح دینے کا اعلان، دوحہ میں مذاکراتی سرگرمیاں تیز

👁️ 64 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا، سفارت کاری کو ترجیح دینے کا اعلان، دوحہ میں مذاکراتی سرگرمیاں تیز

ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا، سفارت کاری کو ترجیح دینے کا اعلان، دوحہ میں مذاکراتی سرگرمیاں تیز

اٹلانٹا / دوحہ(ڈیلی اردو) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے فوجی حملے شروع کرنے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور واشنگٹن تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا آپشن بھی موجود ہے۔

جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد اٹلانٹا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا اگر چاہے تو اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن صدر ٹرمپ اس معاملے کو معمولی نہیں سمجھتے اور انہوں نے تاحال حملوں کی منظوری نہیں دی۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی ترجیح یہ ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو ممکنہ حد تک سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔

روبیو نے قطر کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ بات چیت کے لیے کوئی مخصوص مدت یا آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور بعض معاملات میں براہِ راست جبکہ دیگر میں ثالثوں کے ذریعے بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومبر میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے دوران مزید ٹھوس پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وفد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود ہے، جہاں قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ایرانی حکام کا امریکی وفد سے براہِ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے مذاکرات کا راستہ کھولنے کی کوشش ایک مثبت قدم ہے، لیکن کسی بھی بات چیت کا انحصار تہران کی شرائط پر ہوگا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی مذاکرات کاروں نے ہفتے کے روز دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس سے ایک روز قبل تہران میں ایرانی اور قطری حکام کے درمیان 12 گھنٹے سے زائد مشاورت ہوئی تھی۔ مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے مطابق ان رابطوں کا مقصد خلیجی خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور نئی فوجی کشیدگی کو روکنے کے امکانات پر غور کرنا تھا۔

قطری اخبار العربی الجدید نے ثالثی کے عمل سے واقف ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور ایک امریکی وفد بھی دوحہ پہنچ سکتا ہے، جہاں ایرانی نمائندوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا امکان ہے۔ تاہم امریکی وفد کی آمد یا دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان براہِ راست ملاقات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ عباس عراقچی نے بھی ایسے کسی منصوبے کی تردید کی ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی کوششوں میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، جنگ بندی، ایران کے جوہری پروگرام اور تہران پر عائد پابندیوں جیسے معاملات اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور ثالثی کے ذریعے پیش کی گئی تجاویز پر بھی مکمل اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔

اس صورتحال میں قطر کی ثالثی میں جاری رابطوں کو نئی جنگ روکنے اور مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم امریکی صدر کی جانب سے فوجی کارروائی کے امکان کو برقرار رکھنے اور ایران کی جانب سے اپنی شرائط پر اصرار کے باعث کسی حتمی معاہدے یا کشیدگی کے خاتمے کے بارے میں فی الحال یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C