07/February/2026

نوشہرہ میں خودکش حملہ آور کے ٹھکانے پر چھاپہ، پولیس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

👁️ 307 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
نوشہرہ میں خودکش حملہ آور کے ٹھکانے پر چھاپہ، پولیس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

نوشہرہ میں خودکش حملہ آور کے ٹھکانے پر چھاپہ، پولیس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شیعہ جامع مسجد خدیجہ الکبریٰ پر جمعے کے روز ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد جاری تحقیقات اور سرچ آپریشن کے دوران خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد میں انٹیلی جنس اور پولیس ٹیم پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق نوشہرہ میں تھانہ کینٹ کی حدود ڈھیری کٹی خیل حکیم آباد میں چھاپہ مارا گیا، جس کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس سمیت دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ 

 

موقع پر ہلاک ہونے والوں میں اے ایس آئی اعجاز خان اور فوجی اہلکار شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں ایک فوجی انٹلی جنس افسر، پولیس کا اے ایس آئی شیر خان اور کانسٹیبل حضرت علی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

 

لاشیوں اور زخمیوں کو ملٹری ہسپتال نوشہرہ منتقل کردیا گیا ہے۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ایک حملہ آور، جسے گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔ واقعے کے بعد پورے علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن مزید سخت کر دیا گیا۔ 

 

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں شیعہ مسجد پر خودکش حملہ کرنے والا حملہ آور نوشہرہ کا ہی رہائشی تھا، جس کی تلاش کے لیے یہ کارروائی کی جا رہی تھی۔

 

خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق پشاور میں حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جس کے دوران اس کے دو بھائی اور والدہ کو گرفتار کیا گیا۔ 

 

جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کا شناختی کارڈ بھی ملا، جس کے مطابق مبینہ حملہ آور کا نام یاسر ہے۔ شناختی کارڈ پر مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور درج ہے۔

 

تفتیشی حکام نے بتایا کہ خودکش حملہ آور 5 ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا، جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی۔ 

 

پولیس نے پشاور اور نوشہرہ میں حملہ آور کے ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے چھاپوں کا آغاز کر دیا ہے۔ 

 

تفتیش کے دوران مزید اہم شواہد ملنے کا امکان ہے جو اسلام آباد میں اس دہشت گردی کے واقعے کے پس منظر کو واضح کریں گے۔

 

دوسری جانب شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

 

واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں جمعے کے روز ہونے والے خودکش دھماکے میں مجموعی طور پر 35 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں 29 کی حالت نازک ہے اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C