01/November/2026

ٹرمپ کی ایران کو نئی فوجی کارروائی کی دھمکی، جوہری تنصیبات کو 10 منٹ میں نشانہ بنانے کا دعویٰ

👁️ 54 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ کی ایران کو نئی فوجی کارروائی کی دھمکی،  جوہری تنصیبات کو 10 منٹ میں نشانہ بنانے کا دعویٰ

ٹرمپ کی ایران کو نئی فوجی کارروائی کی دھمکی، جوہری تنصیبات کو 10 منٹ میں نشانہ بنانے کا دعویٰ

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کی ایک یا دو باقی ماندہ جوہری تنصیبات کو صرف 10 منٹ میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران مذاکرات میں معاہدے کی خواہش ظاہر کرتا ہے، لیکن ماضی میں وعدے کرنے کے بعد اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس لیے اس پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی صدر نے فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مارا لاگو کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں اس کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور فوجی سازوسامان کی بڑی تعداد کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بھی متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ایک یا دو مقامات ابھی باقی ہیں جن کے خلاف ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے ایک مبینہ زیرِ زمین جوہری مرکز ’’پک ایکس ماؤنٹین‘‘ کا نام بھی لیا اور کہا کہ اسے بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکومت اس مقام پر جوہری سرگرمیاں جاری ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔ امریکی صدر نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی نئی تفصیلی معلومات پیش نہیں کیں۔

ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بات چیت بظاہر درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن امریکا اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایرانی قیادت کے طرزِعمل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب دیکھنا ہوگا کہ ایران واقعی کسی معاہدے پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ صدر نے ایران پر نئے حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کیا اور واشنگٹن سفارتی حل کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ روبیو نے تاہم یہ بھی کہا تھا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور قطر کے حکام کے درمیان تہران اور دوحہ میں مسلسل سفارتی رابطے جاری ہیں۔ قطری ثالث امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان اختلافات کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں بنیادی اختلاف یہ ہے کہ امریکا ابتدا ہی سے ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت چاہتا ہے، جبکہ تہران کا مطالبہ ہے کہ پہلے امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں کے معاملات حل کیے جائیں۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور اسرائیل کو خبردار کر چکے ہیں کہ کسی نئے حملے کی صورت میں فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے اس امکان پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ نئی فوجی کارروائی پورے خطے کو مزید کشیدگی کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں ایک طرف واشنگٹن کی جانب سے فوجی کارروائی کے امکانات برقرار رکھنے کے بیانات سامنے آ رہے ہیں، تو دوسری جانب قطر کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم جوہری پروگرام، بحری ناکہ بندی اور پابندیوں سمیت اہم معاملات پر اختلافات کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات ابھی غیر یقینی ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C