26/December/2025

پاکستانی عسکری قیادت پر دھمکی آمیز تقاریر، برطانیہ کے ہائی کمشنر کو ڈیمارش

👁️ 227 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستانی عسکری قیادت پر دھمکی آمیز تقاریر، برطانیہ کے ہائی کمشنر کو ڈیمارش

پاکستانی عسکری قیادت پر دھمکی آمیز تقاریر، برطانیہ کے ہائی کمشنر کو ڈیمارش

اسلام آباد (ڈیلی اردو/ بی بی سی) پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ برطانوی شہر بریڈ فورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف مبینہ ’اشتعال انگیز‘ تقاریر پر برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کیا گیا ہے۔

 

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو جمعے کو دفتر خارجہ طلب کر کے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

 

ڈیمارش میں برطانوی حکام پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر پاکستانی قیادت کو دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور اپنی زمین پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

 

پاکستان کی حکومت نے اس سے قبل برطانوی حکام کو لکھے گئے ایک خط میں بریڈ فورڈ میں ہونے والے مظاہرے کے دوران شر انگیز بیانات پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

 

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں اس خط کی تصدیق کی اور کہا کہ خط میں برطانوی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کو دھمکانے کے واقعے پر مناسب کارروائی کی جائے۔

 

پاکستانی حکام کے مطابق خط میں ایک خاتون کی جانب سے شر انگیز بیانات پر مبنی ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر پاکستان کی فوجی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ:"ایک جہاز کریش ہونے سے مارا گیا تھا اور دوسرا کار میں بم پھٹنے سے مرے گا۔" بی بی سی آزاد ذرائع سے اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکا۔

 

طلال چوہدری نے کہا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ جان سے مارنے کی دھمکی ہے، جو نہ صرف عالمی بلکہ برطانوی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

 

پاکستان تحریکِ انصاف کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’آئی کے ٹوڈے‘ کے مطابق جمعرات کو پی ٹی آئی بریڈ فورڈ کی جانب سے احتجاج کا اہتمام کیا گیا، جس میں عمران خان اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

 

برطانوی ہائی کمیشن کا موقف

 

برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی پولیس اور استغاثہ حکومت سے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ 

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر غیر ملکی حکومت کو یقین ہو کہ کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو اُنھیں چاہیے کہ وہ برطانوی پولیس کو تمام متعلقہ مواد یا شواہد فراہم کریں۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی مواد جو برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو، پولیس اس کا جائزہ لے کر مجرمانہ تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C