22/February/2026

پاکستان کا افغانستان میں 7 شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

👁️ 163 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان کا افغانستان میں 7 شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پاکستان کا افغانستان میں 7 شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان نے افغانستان میں موجود مبینہ دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سات مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ان حالیہ خودکش حملوں کے بعد کیا گیا جن میں سیکیورٹی اداروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

 

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

 

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک حملہ اور سنیچر کے روز بنوں میں ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں۔‘

 

واضح رہے کہ سنیچر کے روز بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

 

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔

 

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان میں کارروائی سے متعلق مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، ان کے ساتھی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔‘

 

بیان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘

 

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر درستگی اور مہارت کے ساتھ، پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

 

ایکس پر جاری بیان کے آخر پر پاکستان حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شدت پسندوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘

 

’پاکستان یہ بھی توقع کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے اور اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C