اسرائیلی جیلوں میں قید سرکردہ ترین فلسطینیوں میں کون کون شامل؟
👁️ 94 بار دیکھا گیا
اسرائیلی جیلوں میں قید سرکردہ ترین فلسطینیوں میں کون کون شامل؟
یروشلم (ڈیلی اردو/رائٹرز/ڈی پی اے) غزہ سیزفائر معاہدے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں سے بہت سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں بند سرکردہ ترین فلسطینی قیدیوں میں کون کون شامل ہے۔
غزہ کی جنگ میں اتوار 19 جنوری سے نافذالعمل ہونے والی سیزفائر ڈیل میں یہ بات طے نہیں ہوئی کہ حماس کے زیر قبضہ اسرائیلی یرغمالیوں میں سے مجموعی طور پر کتنے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں سے کتنے فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ حماس کی حراست میں اسرائیلی یرغمالیوں میں سے اب تک کتنے زندہ ہیں اور کتنے مارے جا چکے ہیں۔
جہاں تک اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینی قیدیوں کی موجودہ مجموعی تعداد کا تعلق ہے، تو وہ 10,400 بنتی ہے۔ اس تعداد میں وہ فلسطینی شامل نہیں، جنہیں غزہ کی جنگ کے دوران گزشتہ 15 ماہ سے بھی زائد عرصے میں اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا۔ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی اس تعداد کی تصدیق فلسطینی قیدیوں سے متعلق سوسائٹی اور قیدیوں سے متعلقہ امور کے فلسطینی کمیشن دونوں نے کی ہے۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید سرکردہ ترین فلسطینی قیدی کون کون سے ہیں، جن کے بارے میں حماس کی خواہش ہو گی کہ اسرائیل انہیں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے رہا کر دے۔
سرکردہ فلسطینی قیدی جن کا تعلق حماس سے ہے
عبداللہ البرغوتی
عبداللہ البرغوتی کو 2004ء میں 67 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایک اسرائیلی فوجی عدالت نے انہیں 2001ء اور 2002ء میں کیے جانے والے ان متعدد خود کش بم حملوں میں ملوث مجرم قرار دیا تھا، جن میں درجنوں اسرائیلی مارے گئے تھے۔
عبداللہ البرغوتی تین بچوں کے والد ہیں اور وہ 1972ء میں کویت میں پیدا ہوئے تھے۔ 1996ء میں وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ کے نواح میں ایک گاؤں میں آباد ہو گئے تھے۔
ابراہیم حامد
ابراہیم حامد کو 2006ء میں رام اللہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور اور انہیں درجنوں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے متعدد خود کش بم حملوں کی منصوبہ بندی کے جرم میں مجموعی طور پر 54 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ابراہیم حامد اپنی گرفتاری سے پہلے آٹھ سال تک اسرائیل کو سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل رہے تھے۔ حامد مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈز کے اعلیٰ کمانڈر تھے۔ انہوں نے رام اللہ یونیورسٹی سے علم سیاسیات میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
نائل برغوتی
1957ء میں پیدا ہونے والے نائل برغوتی 44 برس اسرائیلی جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ یہ عرصہ ان کی 67 سالہ زندگی کے دوتہائی کے برابر بنتا ہے۔ ان سے زیادہ عرصہ اسرائیلی جیلوں میں کسی دوسرے فلسطینی قیدی نے نہیں گزارا۔ وہ عرف عام میں فلسطینی قیدیوں کے ‘ڈین‘ بھی کہے جاتے ہیں۔
نائل برغوتی کو پہلی مرتبہ 1978ء میں سزائے قید سنائی گئی تھی، جب انہوں نے ایک ایسے حملے میں حصہ لیا تھا، جس میں یروشلم میں ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا تھا۔ نائل برغوتی کو 1978ء میں جب عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو وہ یاسر عرفات کی فتح تحریک کے مسلح بازو کے ایک رکن تھے۔ بعد میں وہ ایک یرغمالی اسرائیلی فوجی کی رہائی کے بدلے ان فلسطینیوں کے ساتھ آزاد کر دیے گئے تھے، جن کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزار بنتی تھی۔ اس عرصے میں وہ حماس میں شامل ہو گئے تھے، جس کی بنیاد 1987ء میں رکھی گئی تھی۔
حسن سلامہ
1971ء میں غزہ پٹی کے شہر خان یونس کے ایک مہاجر کیمپ میں پیدا ہونے والے حسن سلامہ کو 1996ء میں اسرائیل میں متعدد خود کش بم دھماکوں میں درجنوں اسرائیلیوں کی ہلاکت کا شریک مجرم ہونے پر ایک اسرائیلی عدالت نے سزا سنائی تھی۔ انہیں 48 مرتبہ عمر قید کا حکم سنایا گیا تھا۔ سلامہ کو ویسٹ بینک کے شہر عبرون سے 1996ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔
سرکردہ فلسطینی قیدی جن کا تعلق حماس سے نہیں
مروان برغوتی، فتح تحریک
اسرائیلی جیلوں میں بہت سے ایسے سرکردہ فلسطینی بھی قید ہیں، جن کا تعلق حماس سے نہیں ہے۔ ان میں سے ایک فلسطینیوں کی فتح تحریک کے نمایاں رہنما مروان البرغوتی ہیں، جنہیں موجودہ فلسطینی صدر محمود عباس کا ممکنہ جانشین بھی قرار دیا جاتا ہے۔
مروان برغوتی کو فلسطینیوں کی انتفادہ نامی دونوں بڑی مزاحمتی تحریکوں کا رہنما اور منتظم سمجھا جاتا ہے۔ انہیں 2002ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔
فلسطینیوں کی فتح تحریک کے عہدیداروں کے مطابق یاسر عرفات کی زندگی میں ان کی فتح تحریک کے عسکری بازو کے طور پر خود یاسر عرفات ہی کے حکم پر الاقصیٰ شہداء بریگیڈ کی بنیاد مروان برغوتی نے ہی رکھی تھی۔
احمد سعدات، پی ایف ایل پی
احمد سعدات عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین یا پی ایف ایل پی کے رہنما ہیں اور ان پر اسرائیل نے 2001ء میں اسرائیلی وزیر سیاحت ریہاوام کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے 2006ء میں سعدات کو گرفتار کیا تھا اور پھر ان پر ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔ انہیں 2008ء میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک
23/July/2026 👁️ 479 بار دیکھا گیا
بلوچستان کے تین اضلاع سے سات افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد
23/July/2026 👁️ 489 بار دیکھا گیا
امریکہ نے سعودی عرب کو جوہری پروگرام شروع کرنے کی اجازت دے دی
23/July/2026 👁️ 452 بار دیکھا گیا
مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی بی ڈی ٹیم پر دھماکا، 3 اہلکار ہلاک، 4 زخمی
23/July/2026 👁️ 332 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 10 دہشت گرد ہلاک، 2 خواتین خودکش بمبار گرفتار
23/July/2026 👁️ 354 بار دیکھا گیا
حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکی، پاکستان نے سخت وارننگ جاری کر دی
23/July/2026 👁️ 913 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8971 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4839 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3714 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3584 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2572 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2326 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C