15/January/2026

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ آخری لمحے میں روکا! کیا جنگ ٹل گئی؟

👁️ 218 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ آخری لمحے میں روکا! کیا جنگ ٹل گئی؟

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ آخری لمحے میں روکا! کیا جنگ ٹل گئی؟

واشنگٹن (ش ح ط) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کر دیا۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی ممالک کی ہنگامی اور بھرپور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آیا۔

 

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور اومان نے واشنگٹن کے ساتھ فوری رابطے کیے اور صدر ٹرمپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ فوجی کارروائی کو موخر کرتے ہوئے ایران کو اپنے ’’اچھے عمل‘‘ کا مظاہرہ کرنے کا ایک اور موقع دیا جائے۔

 

اس سے قبل صدر ٹرمپ ایرانی مظاہرین کو یہ پیغام دے چکے تھے کہ ’’مدد راستے میں ہے‘‘، تاہم بدھ کی رات دیر گئے انہوں نے یہ کہہ کر ممکنہ حملے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا کہ ایران میں ہلاکتوں کا سلسلہ رک رہا ہے۔

 

ٹرمپ کے اس فیصلے سے کچھ ہی دیر قبل ایرانی حکام نے حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی دینے کے فیصلے کو روکنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

 

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک سینئر سعودی اہلکار نے بتایا کہ خلیجی ممالک نے آخری لمحات میں طویل اور انتہائی تھکا دینے والی سفارتی کوششوں کے ذریعے صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایران کو ایک موقع اور دیا جائے۔

 

 اہلکار کے مطابق ان ممالک نے واشنگٹن کو خبردار کیا تھا کہ ایران پر حملے کے خطے کے لیے نتائج نہایت بھیانک ہو سکتے ہیں۔

 

سعودی اہلکار نے کہا:“یہ بموں کو ڈی فیوز کرنے کے لیے ایک بے خوابی والی رات تھی۔”

 

رپورٹ کے مطابق ترکیہ اور مصر نے بھی صدر ٹرمپ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ ایران پر امریکی حملے کے اثرات نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں پر بھی شدید منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

 

دی ٹیلیگراف کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ ایران پر حملہ صرف اسی صورت میں کیا جائے گا جب اس کے ایرانی حکومت پر فیصلہ کن اثرات مرتب ہوں۔

 

دوسری جانب امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا اور لوگوں کو ’’انتظار کرنا چاہیے‘‘۔

 

ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق تمام آپشنز بدستور کھلے رکھے ہیں۔ پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ صدر اور ان کی ٹیم ایران کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور مظاہرین کی ہلاکتیں جاری رہنے پر ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا جا چکا ہے۔

 

کیرولائن لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں 800 افراد کی سزائے موت روکی گئی ہیں جبکہ تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے۔

اسی دوران امریکا نے ایران کی بارہ کمپنیوں اور گیارہ ایرانی نژاد افراد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

 

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والز نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ ایران خبردار رہے، صدر ٹرمپ نے تمام آپشنز میز پر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ باتوں کے نہیں بلکہ عمل کے آدمی ہیں اور ایران میں قتل عام رکنا چاہیے۔

 

دریں اثنا قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی سزائے موت روکے جانے کو ’’اچھی خبر‘‘ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مظاہرین کو اب سزائے موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور امید ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

 

مغربی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C