11/May/2026

ایران–امریکہ کشیدگی میں نیا طوفان، ٹرمپ کا دو ٹوک انکار

👁️ 197 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران–امریکہ کشیدگی میں نیا طوفان، ٹرمپ کا دو ٹوک انکار

ایران–امریکہ کشیدگی میں نیا طوفان، ٹرمپ کا دو ٹوک انکار

واشنگٹن (ڈیلی اردو ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے اسے “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔

 

ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے مختصر بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے “نام نہاد نمائندوں” کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے، تاہم اس میں کوئی ایسا پہلو موجود نہیں جو امریکی مؤقف کے مطابق قابلِ قبول سمجھا جا سکے۔

 

امریکی انتظامیہ کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق امریکی پیشکش پر دیے گئے جواب کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ جواب پاکستان کے ذریعے منتقل کیا گیا، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

 

اسی ہفتے کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں جاری کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی، تاہم اس کے برعکس اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کیے بغیر کسی بھی جنگ کے خاتمے کو مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔

 

ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو عسکری طور پر شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور امریکی افواج ایران کے جوہری مواد پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی نے اس مواد تک رسائی کی کوشش کی تو اسے فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔

 

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی “اہم عسکری اور سیاسی قیادت” کمزور ہو چکی ہے اور ملک کی مختلف سطحوں پر موجود قیادت متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کو اپنی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے میں کم از کم دو دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران بارہا معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے، تاہم اب امریکہ کسی بھی صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

 

سابق امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کی ایران ڈیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اس معاہدے کے تحت ایران کو مالی اور سفارتی فائدہ پہنچا۔

 

ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے ایران کو “سینکڑوں ارب ڈالر” کی سہولتیں دی گئیں، جس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سرگرم رہا ہے۔

 

دوسری جانب ایران کی حکومت کی طرف سے ٹرمپ کے تازہ بیانات پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں پر عالمی برادری کی نظر برقرار ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C