07/February/2026

بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات:ٹرین سروس دوبارہ معطل

👁️ 173 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات:ٹرین سروس دوبارہ معطل

بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات:ٹرین سروس دوبارہ معطل

کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں بڑھتے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور چھ روز بعد بحال ہونے والی ٹرین سروس ایک بار پھر معطل کر دی گئی ہے۔

 

بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے، جبکہ اہم تنصیبات اور حساس مقامات کی سیکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔

 

قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف علاقوں میں گشت کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل ہی کارروائی ممکن ہو سکے۔

 

ریلوے حکام کے مطابق ٹرین سروس کی معطلی کے سبب مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی ٹرین آپریشن دوبارہ بحال کیا جائے گا جبکہ صوبے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔

 

سیکیورٹی اداروں بشمول کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز کے دوران درجنوں مشکوک افراد کو حراست میں لیا، جبکہ کارروائیوں کے دوران اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھلی ہیں اور شہری نقل و حرکت بلا تعطل جاری رکھ سکتے ہیں۔

 

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول کے لیے ہائی الرٹ اور حفاظتی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ صوبے میں امن و امان قائم رکھا جا سکے۔

 

واضح رہے کہ 5 دن کی معطلی کے بعد گزشتہ روز ٹرین سروس بحال ہوئی تھی۔ 31 جنوری کو صوبے بھر میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کے باعث ریلوے ٹریکس کو نقصان پہنچا تھا اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پاکستان ریلویز نے کوئٹہ سے اندرونِ صوبہ اور دیگر صوبوں کی جانب چلنے والی تمام ٹرین سروسز عارضی طور پر معطل کر دی تھیں۔

 

31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اسکولوں، بینکوں اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے بیک وقت مسلح حملوں اور خودکش دھماکوں میں 50 افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

 

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کے ارکان کے خلاف مختلف علاقوں میں چھاپے مارے ہیں۔ حکام نے جمعرات کے روز بتایا کہ 216 بی ایل اے جنگجو مارے جا چکے ہیں۔صوبائی حکومت نے عوامی اجتماعات اور چہرہ ڈھانپ کر شناخت چھپانے پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

 

اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق، ریکارڈ تعداد میں شدت پسندوں کی ہلاکت کے باوجود سن 2025 میں پاکستان میں عسکریت پسند تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ گزشتہ برس کے دوران 2024ء کے مقابلے میں دہشت گردانہ حملوں میں 34 فیصد جبکہ دہشت گردی سے متعلق اموات میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C