26/February/2026

بلوچستان: چمن اور کیچ میں 3 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک

👁️ 215 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: چمن اور کیچ میں 3 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک

بلوچستان: چمن اور کیچ میں 3 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک

کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے دو اضلاع میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت کم ازکم نو افراد ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

 

ہلاک ہونے والوں میں چھ عام شہری بھی شامل ہیں، جن کو ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ میں نشانہ بنایا گیا۔

 

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں دونوں واقعات کی مذمت کی گئی ہے۔

 

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

 

سکیورٹی اہلکاروں کو کہاں نشانہ بنایا گیا؟

 

سیکورٹی اہلکاروں کو افغانستان سے ملحقہ سرحدی شہر چمن کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

 

کوئٹہ ڈویژن میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر اہلکار نے چمن کے قریب سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اہلکار روغانی روڈ سے ایک گاڑی میں گزر رہے تھے جب نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

 

سینیئر اہلکار کے مطابق حملے میں تین اہلکار مارے گئے جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

 

ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں اور زخمی اہلکار کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

 

انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے ہیں، جبکہ واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں

 

چمن میں اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔


عام شہریوں کی ہلاکت


چھ افراد کی ہلاکت کا واقعہ ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں پیش آیا۔


تربت میں پولیس کے ایک اہلکار ظہیر احمد نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر کو نشانہ بنایا ہے۔


مکران ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک اور سینیئر اہلکار نے نام نہ ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے عبدالحمید نامی شخص کے گھر کو بھاری اسلحہ سے نشانہ بنانے کے علاوہ بھی فائرنگ کی ہے۔


اہلکار کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک خاتون سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔


اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔


اس حملے کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بعض لاشیں جلی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ ایک لاش کے پاس جلا ہوا اسلحہ بھی دکھائی دیتا ہے۔


ویڈیوز میں گھر کے صحن کے بھی بعض حصے جلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔


انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، تاہم انھوں نے ابتدائی شواہد کے حوالے سے اسے ٹارگٹڈ کلنگ کا واقعہ قرار دیا ہے۔


مہناز ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے ایران کے سرحد کی جانب 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔


اس علاقے میں طویل عرصے سے کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔


ان واقعات کی بازگشت منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سنائی دی۔


وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سپیکر عبدالخالق اچکزئی اور سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی کے علاوہ دیگر اراکین نے ان واقعات کی مذمت کی۔
 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C