15/February/2026

بی ایل اے نے 7 پاکستانی فوجی اہلکار حراست میں لیے، حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیدی

👁️ 285 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بی ایل اے نے 7 پاکستانی فوجی اہلکار حراست میں لیے، حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیدی

بی ایل اے نے 7 پاکستانی فوجی اہلکار حراست میں لیے، حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیدی

کوئٹہ (نمائندہ ڈیلی اردو) بلوچستان میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تحویل میں پاکستانی فوج کے سات اہلکار موجود ہیں اور جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔

 

بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق مبینہ طور پر “آپریشن ہیروف دوم” کے دوران 17 اہلکار مختلف مقامات سے گرفتار کیے گئے تھے۔ ابتدائی جانچ کے بعد دس اہلکاروں کو مقامی پولیس اور لیویز سے وابستگی اور مقامی شناخت کی بنیاد پر وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا، جبکہ سات اہلکار، جنہیں تنظیم نے پاکستانی فوج کے ریگولر یونٹس کا حصہ قرار دیا، اب بھی اس کی تحویل میں ہیں۔

 

بی ایل اے کے بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان اہلکاروں کے خلاف ایک نام نہاد “بلوچ قومی عدالت” میں کارروائی کی گئی، جہاں انہیں جنگی جرائم، جبری گمشدگیوں میں معاونت اور شہری آبادی کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

 

تنظیم نے پاکستان کو سات دن کی مہلت دی ہے کہ اگر اس دوران جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیے باضابطہ آمادگی ظاہر کی جائے تو سات اہلکاروں کو بلوچ قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں رہا کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر بی ایل اے نے دعویٰ کیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد ان کے خلاف سنائی گئی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

 

بی ایل اے نے یہ بھی کہا کہ اس سے قبل بھی قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن پاکستانی فوج نے سنجیدہ پیش رفت نہیں کی۔

 

دوسری جانب پاکستانی فوج یا حکومت کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C