29/December/2025

بی ایل اے کا خودکش حملہ ناکام، آن لائن بھرتی کی گئی انتہا پسند لڑکی پاکستان میں گرفتار

👁️ 229 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بی ایل اے کا خودکش حملہ ناکام، آن لائن بھرتی کی گئی انتہا پسند لڑکی پاکستان میں گرفتار

بی ایل اے کا خودکش حملہ ناکام، آن لائن بھرتی کی گئی انتہا پسند لڑکی پاکستان میں گرفتار

کراچی (ڈیلی اردو/ ڈی پی اے) پاکستانی پولیس نے ایک ایسی ٹین ایجر لڑکی کو گرفتار کر لیا ہے، جسے ایک ممنوعہ علیحدگی پسند گروپ نے آن لائن ذرائع سے پہلے شدت پسند بنایا اور پھر اسے اس لیے اپنی صفوں میں بھرتی کیا کہ وہ ایک بڑا خود کش بم حملہ کر سکے۔

 

پاکستان کے بندرگاہی شہر اور صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے پیر 29 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ ضیاالحسن نے آج ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حراست میں لی گئی اس نوجوان لڑکی کے خلا ف کوئی باقاعدہ مجرمانہ فرد جرم عائد نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے ’ریاستی حفاظت‘‘ میں رکھا جائے گا، کیونکہ وہ ایک’’ مشتبہ ملزمہ ہونے کے بجائے دہشت گردوں کی کوششوں سے متاثر زیادہ ہے۔‘‘

 

صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس لڑکی کو پولیس کی طرف سے معمول کی چیکنگ کے دوران اس وقت حراست میں لیا گیا، جب وہ ملک کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان سے کراچی کی طرف سفر کر رہی تھی، تاکہ اپنے اس سہولت کار سے ملاقات کر سکے، جس نے اس کی مدد کرنا تھی۔

 

وزیر داخلہ ضیاالحسن نے صحافیوں کو بتایا، ’’یہ لڑکی معمول کی چیکنگ کے دوران پولیس کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں پر بوکھلا گئی تھی، جس کے بعد اس سے پولیس نے باقاعدہ پوچھ گچھ کی، تو اس نے اعتراف کر لیا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے فیس بک اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطوں میں تھی۔

 

اس لڑکی کو بلوچ لبریشن آرمی نے آن لائن ٹارگٹ کیا

 

سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حراست میں لی جانے والی اس نوجوان لڑکی کو بلوچ علیحدگی پسندوں کی ممنوعہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے سوشل میڈیا پر باقاعدہ ٹارگٹ کر کے اپنی صفوں میں شامل کیا تھا۔

 

بلوچ لبریشن آرمی کو پاکستان نے ایک ممنوعہ علیحدگی پسند تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اس عسکریت پسند تنظیم کو امریکہ نے بھی اسی سال ایک دپشت گرد گروپ قرار دے دیا تھا۔

 

ضیاالحسن کے الفاظ میں، ’’اس لڑکی کو اس ممنوعہ علیحدگی پسند گروپ نے قائل کر لیا تھا کہ اس کی طرف سے خود کش حملہ کیے جانے کے عمل سے اسے عزت بھی ملے گی اور بلوچ برادری میں اس کی خدمات کا اعتراف بھی کیا جائے گا، اسی طرح جیسے دیگر خواتین بھی ماضی میں ملکی سکیورٹی فورسز کے خلاف خود کش بم حملے کر کے کر چکی ہیں۔‘‘

 

کراچی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس لڑکی کو آج کی جانے والی پریس کانفرنس میں اس کی والدہ کے ساتھ صحافیوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ تاہم  اس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا اور حکام نے اس کا نام اور عمر بھی ظاہر نہیں کیے۔

 

اعترافی ویڈیو بیان

 

ساتھ ہی پولیس کی طرف سے اس لڑکی کی طرف سے دیا جانے والا ایک ویڈیو بیان بھی دکھایا گیا، جس میں اس نے بلوچ لبریشن آرمی کے ساتھ اپنے رابطوں کی تفصیلات بتائیں اور یہ بھی کس طرح وہ ایک خود کش بم حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔

 

پاکستانی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے اس امر کی مذمت کی ہے کہ کس طرح بلوچ لبریشن آرمی جیسی کالعدم دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں کو تشدد پر اکساتے ہوئے انہیں اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوششیں کرتی ہیں۔

 

ساتھ ہی تارڑ نے یہ بھی کہا کہ اس لڑکی کے حراست میں لیے جانے کے ساتھ اس کی طرف سے منصوبہ کردہ خود کش حملے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر کافی زیادہ جانی نقصان کا خطرہ بھی ٹل گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C