22/December/2025

خیبر: وادی تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل نقل مکانی کا اعلان

👁️ 303 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر: وادی تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل نقل مکانی کا اعلان

خیبر: وادی تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل نقل مکانی کا اعلان

خیبر (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کے دور افتادہ علاقے وادیٔ تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور قبائلی نمائندہ جرگے کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد علاقے سے مرحلہ وار نقل مکانی کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

 

اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ خیبر اور وادی تیراہ کے مختلف قبائل پر مشتمل 24 رکنی نمائندہ جرگہ ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے تحت وادی تیراہ کو فوجی آپریشن کے لیے عارضی طور پر خالی کیا جائے گا۔

 

جرگہ کے رکن ملک کمال الدین نے بتایا کہ خیبر انتظامیہ اور قبائلی جرگے کا اجلاس گزشتہ روز خیبر ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی فورسز اور صوبائی حکومت کی اعلیٰ قیادت نے کچھ ترامیم کے بعد 27 نکاتی معاہدے کی تمام شقوں کی منظوری دے دی۔

 

ان کے مطابق معاہدے کے تحت 10 جنوری سے نقل مکانی کا عمل شروع ہوگا جو 25 جنوری تک مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ 25 اپریل سے متاثرہ خاندانوں کی مرحلہ وار واپسی شروع کی جائے گی۔

 

معاہدے کے مطابق مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کا معاوضہ 80 لاکھ روپے سے کم کر کے 30 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جزوی طور پر متاثرہ گھروں کے لیے 30 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔

 

اسی طرح نقل مکانی کے دوران ہر متاثرہ خاندان کو ڈھائی لاکھ روپے نقد امداد دی جائے گی، جبکہ ہر ماہ 50 ہزار روپے بطور گزارہ الاؤنس فراہم کیے جائیں گے۔

 

جرگہ ممبر کے مطابق متاثرین کو طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

 

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دوتوئی، حیدر کنڈو، تور توت، کرم ایجنسی سے ملحقہ سرحدی علاقے اور راجگال کے مکین نقل مکانی کریں گے، جبکہ انتظامیہ نے معاہدے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

 

یاد رہے کہ 11 دسمبر کو وادی تیراہ کے قبائل کا نمائندہ جرگہ منعقد ہوا تھا، جس میں قمبر خیل، ملک دین خیل، شلوبر، آدم خیل، اکاخیل اور ذخہ خیل قبائل پر مشتمل 24 رکنی جرگے نے حکومت کو 27 نکات پر مبنی شرائط نامہ ارسال کیا تھا۔

جرگے کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ آئندہ علاقے میں دوبارہ فوجی آپریشن نہ کیا جائے اور حالات دوبارہ خراب نہ ہوں۔ معاہدے کے تحت یہ یقین دہانی بھی شامل کی گئی ہے۔

 

معاہدے کی دیگر شقوں کے مطابق واپسی کے بعد علاقے میں کسی قسم کی امن کمیٹی نہیں بنائی جائے گی، امن و امان برقرار رکھنے کی مکمل ذمہ داری حکومت کی ہوگی، جبکہ سکیورٹی فورسز کے زیرِ استعمال تمام مکانات اصل مالکان کے حوالے کیے جائیں گے۔

 

ملک کمال الدین کے مطابق انتظامیہ نے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم معاہدے کی کاپی عوامی سطح پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

 

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول ٹانک، وادی تیراہ اور باجوڑ میں بدامنی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں پر مقامی آبادی کی جانب سے احتجاج بھی سامنے آیا ہے۔

 

گزشتہ چند ماہ میں شہری ہلاکتوں کے دو بڑے واقعات رپورٹ ہوئے۔

 

جولائی میں وادی تیراہ میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی ہلاک ہوئی، جس کے بعد احتجاج کے دوران فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 

اسی طرح جولائی میں ہی باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران تین شہری ہلاک ہوئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C