01/January/2026

سال 2025: بلوچستان میں دہشت گردی، 827 افراد ہلاک، 745 دہشت گرد مارے گئے

👁️ 290 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سال 2025: بلوچستان میں دہشت گردی، 827 افراد ہلاک، 745 دہشت گرد مارے گئے

سال 2025: بلوچستان میں دہشت گردی، 827 افراد ہلاک، 745 دہشت گرد مارے گئے

کوئٹہ (ڈیلی اردو ) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 827 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں 745 دہشت گرد مارے گئے۔

 

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق، سال 2025 میں بلوچستان بھر میں دہشت گردی کے 940 واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں 287 سکیورٹی اہلکار اور 440 شہری شامل ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق دہشت گرد حملوں میں مجموعی طور پر 1349 افراد زخمی بھی ہوئے۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران 6 خودکش حملے ہوئے، جبکہ فائرنگ، بم دھماکوں، آئی ای ڈیز، دستی بموں، راکٹ حملوں اور بارودی سرنگوں کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے۔

 

دہشت گردی کے ایک واقعے میں سوراب کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ہلاک ہوئے۔ 

 

رواں سال سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات تربت میں 109، قلات میں 88، آواران میں 75، کوئٹہ میں 65، مستونگ میں 57 اور پنجگور میں 43 رپورٹ ہوئے۔

 

رپورٹ کے مطابق 2025 میں بم دھماکوں کے 265، دستی بم حملوں کے 213، سرکاری عمارتوں کو آگ لگانے کے 93 اور ریلوے ٹریک پر 27 حملے ہوئے، جبکہ متعدد بار جعفر ایکسپریس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پولیو ٹیموں پر 3 اور موبائل ٹاورز پر 27 حملے رپورٹ ہوئے۔

 

صوبائی حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 میں گیس پائپ لائن پر 8 اور آبادکاروں پر 27 حملے کیے گئے، جبکہ زیارت سے اغوا کیے گئے اسسٹنٹ کمشنر تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔

 

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی نے سال بھر میں 78 ہزار آپریشنز کیے، جن کے دوران 745 دہشت گرد مارے گئے۔

 

آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سال 2025 میں پولیس نے مجموعی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ضرور ہوا، تاہم پولیس کو مزید وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پولیس کی کیپسٹی بلڈنگ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، متعدد مواقع پر پولیس نے بروقت اور مؤثر ردعمل دیا اور پولیس تھانوں پر ہونے والے حملوں کو نفری نے دلیری سے ناکام بنایا۔

 

آئی جی بلوچستان نے کہا کہ پولیس میں میرٹ پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے اور محکمہ پولیس میں احتساب برانچ قائم کی گئی ہے۔

 

محمد طاہر کے مطابق اے ٹی ایف الاؤنس میں اضافہ کیا گیا ہے، نفری میں بھی توسیع کی جا رہی ہے، پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے اور سیف سٹی منصوبہ آخری مرحلے میں ہے۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کر دی گئی ہیں اور مزید بھی فراہم کی جائیں گی، عوام کی خدمت کو ترجیح دی جا رہی ہے اور کوئٹہ کی سکیورٹی کے لیے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C