06/May/2026

متحدہ عرب امارات پر حملے: عالمی رہنماؤں کی طرف سے ایران پر دباؤ میں اضافہ

👁️ 195 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
متحدہ عرب امارات پر حملے: عالمی رہنماؤں کی طرف سے ایران پر دباؤ میں اضافہ

متحدہ عرب امارات پر حملے: عالمی رہنماؤں کی طرف سے ایران پر دباؤ میں اضافہ

برلن (ڈیلی اردو/ ڈی پی اے) تہران کی طرف سے متحدہ عرب امارات میں فجیرہ پر نئے حملوں سے ایران جنگ میں موجودہ توسیع شدہ فائر بندی اب شدید خطرے میں ہے جبکہ عالمی رہنماؤں کی طرف سے ایران پر سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہنے کے لیے دباؤ اور بڑھ گیا ہے۔

 

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی موجودہ ایران جنگ میں، جس میں اس وقت ایک توسیع شدہ فائر بندی پر عمل درآمد جاری ہے، کل پیر چار مئی کی شام ایک نیا موڑ اس وقت دیکھنے میں آیا، جب ایران نے کئی دنوں کے وقفے کے بعد متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ پر نئے مبینہ حملے کیے۔

 

ان نئے ایرانی حملوں کی ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت کی طرف سے شدید مذمت کی گئی۔ اماراتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے اس خلیجی ریاست میں فجیرہ کے مقام پر توانائی کے ایک بہت بڑے مرکز کو نشانہ بنایا ہے، جس دوران وہاں کام کرنے والے تین بھارتی کارکن زخمی بھی ہو گئے۔

 

ساتھ ہی اس بیان میں کہا گیا، ’’یہ حملے بہت خطرناک کشیدگی کی علامت ہیں اور یہ قطعی ناقابل قبول عمل ہے۔ ان حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان کا مناسب جواب دے۔‘‘

 

دوسری طرف ان حملوں کے بعد اعلیٰ ایرانی فوجی حکام کی طرف سے کہا گیا کہ ایران کے متحدہ عرب امارات پر حملوں کے ’’کوئی منصوبے نہیں‘‘ تھے۔ ایرانی فوجی حکام نے تاہم یہ نہ کہا کہ یہ حملے ایران نے نہیں کیے۔

 

اپریل کے ابتدائی دنوں سے ایران جنگ میں پہلے دو ہفتے کی محدود اور پھر جس توسیع شدہ اور غیر معینہ مدت تک کی فائر بندی پر ابھی تک عمل جاری ہے، فجیرہ پر نئے ایرانی حملوں کو اس کی شدید خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

 

دوسری طرف ایران نے بھی الزام لگایا ہے کہ امریکہ، جس نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل ناکہ بندی کر رکھی ہے، وہ بھی فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔

 

اس پس منظر میں عالمی رہنماؤں کی طرف سے ایران پر اس مقصد کے تحت ڈالا جانے والا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے کہ تہران اس تنازعے کے حل کے لیے صرف سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہے اور مزید کسی بھی عسکری اشتعال انگیزی سے اجتناب کرے۔

 

جرمنی کے وفاقی چانسلر فریڈرش میرس نے تہران کے رویوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور خطے اور دنیا کو یرغمال بنائے رکھنے کا سلسلہ بند کرے۔‘

 

جرمن چانسلر میرس کی طرح یورپی یونین کے رکن ایک اور بڑے ملک فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں ایران سے یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ تصادم کے بجائے مکالمت اور سفارت کاری کے راستے پر کاربند رہے۔

 

اسی طرح خلیج فارس کی علاقائی طاقت اور تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے بھی، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور جسے فائر بندی سے قبل خود بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے، مطالبہ کیا ہے کہ کشیدگی میں فوراﹰ کمی ناگزیر ہے اور ایران کو ’’تنا‍زعے کے سیاسی مذاکراتی حل کے لیے کوششوں کو تقویت‘‘ دینا چاہیے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C