02/February/2026

نقل مکانی مسلط کی گئی، اب اسلام آباد جا کر امن کا حق مانگیں گے: خیبر امن جرگہ

👁️ 187 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
نقل مکانی مسلط کی گئی، اب اسلام آباد جا کر امن کا حق مانگیں گے: خیبر امن جرگہ

نقل مکانی مسلط کی گئی، اب اسلام آباد جا کر امن کا حق مانگیں گے: خیبر امن جرگہ

پشاور (ڈیلی اردو) خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرِ نگرانی خیبر میں منعقدہ گرینڈ امن جرگے میں تیراہ کے متاثرین نے واضح کیا کہ وہ اپنے گھروں سے رضاکارانہ طور پر نہیں نکلے بلکہ انھیں جبری طور پر بے دخل کیا گیا۔

 

 جرگے میں شریک عوام اور مشران نے متفقہ طور پر کہا کہ نقل مکانی ان پر مسلط کی گئی اور اس دوران انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

 

وزیر اعلی کے دفتر سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جرگے کے شرکا نے تیراہ کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد جانے سے قبل دیگر قبائلی اضلاع میں بھی مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے تاکہ اجتماعی رائے سامنے آ سکے، جس کے بعد ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ حتمی لائحہ عمل طے کرے گا۔

 

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر واضح طور پر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور دنیا کی دولت بھی ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی، تاہم ’رجیم چینج آپریشن‘ کے ذریعے بیرونی سازش کے تحت عمران خان کی حکومت کو ہٹایا گیا، جس کے بعد صوبے پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے حالات کی خرابی پر پیشگی خبردار کیا تھا مگر ان خدشات کو جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیا گیا اور وفاقی حکومت نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

 

انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے پہاڑوں تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی، پھر بتایا گیا کہ وہ وادی میں اتر آئے ہیں لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔ بعد ازاں دہشت گرد گھروں تک پہنچ گئے اور بندوق کی نوک پر کھانا لینے لگے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گرد گھروں تک پہنچے کیسے اور انھیں روکنے والی فورسز کہاں تھیں۔

 

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بعد میں گھروں پر ڈرون حملے شروع ہوئے، معصوم شہریوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا، ایک بچی کو شہید کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی گئی جس سے مزید جانیں ضائع ہوئیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ملٹری آپریشن کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کیے گئے۔

 

انھوں نے کہا کہ تیراہ میں آپریشن کے ذریعے عوام کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ علاقے میں برف باری متوقع تھی۔ بار بار منع کرنے کے باوجود لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا اور بعد میں پریس ریلیز کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ لوگ خود علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی عوام پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں مگر ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام دہشت گرد نہیں بلکہ غلط پالیسیاں دہشت گردی کو جنم دے رہی ہیں۔

 

انھوں نے واضح کیا کہ تیراہ متاثرین کے لیے چار ارب روپے صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے مختص کیے ہیں، حالانکہ یہ وفاق کی ذمہ داری تھی۔ ان کے مطابق سابقہ آپریشنز کے دوران وفاق نے بے گھر افراد کو چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو آج تک پورا نہیں ہوا۔

 

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اب تک سات ارب روپے سے زائد ادا کر چکی ہے جبکہ آئی ڈی پیز کے 52 ارب روپے اور مجموعی طور پر صوبے کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ متاثرین کے لیے چیف منسٹر ریلیف اکاؤنٹ کھولا جائے گا اور رجسٹریشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔

 

سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملاقات کی دعوت دی ہے جس میں وہ صوبے کے عوام کا مقدمہ پوری قوت سے پیش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ دیگر قبائلی اضلاع کے دورے بھی کریں گے کیونکہ قبائل نے پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ان کے وزیرِ اعلیٰ بننے سے ناخوش ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ قبائل قومی دھارے میں آئیں، حالانکہ قبائلی عوام تعلیم یافتہ، محبِ وطن اور آئین و قانون کے پابند ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔‘

 

آخر میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبائی حکومت ان واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے اور شہداء کے لواحقین کے غم میں شریک ہے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C