28/January/2026

ڈیرہ اسماعیل خان فائرنگ: لیفٹیننٹ کرنل عمران کی ہلاکت کیسے ہوئی؟

👁️ 746 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ڈیرہ اسماعیل خان فائرنگ: لیفٹیننٹ کرنل عمران کی ہلاکت کیسے ہوئی؟

ڈیرہ اسماعیل خان فائرنگ: لیفٹیننٹ کرنل عمران کی ہلاکت کیسے ہوئی؟

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تھانہ شیرکوٹ کی حدود میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں لیفٹیننٹ کرنل محمد عمران ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل محمد عمران کوئٹہ سے اپنے آبائی شہر ڈیرہ اسماعیل خان آ رہے تھے۔ اسی دوران گوڈ طالبان کے اہم کمانڈر نور عالم محسود بھی اسی سڑک پر سفر کر رہے تھے۔

 

معتبر ذرائع نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ لیفٹیننٹ کرنل یا نور عالم محسود میں سے کسی ایک کو پیغام موصول ہوا کہ ان کا تعاقب کیا جا رہا ہے اور وہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

 

ذرائع نے مزید بتایا کہ حادثے کے وقت لیفٹیننٹ کرنل کی سیاہ گاڑی نور عالم محسود کی گاڑی کے پیچھے تھی، اور مبینہ طور پر دونوں گاڑیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ 

 

ذرائع نے بتایا کہ چند روز قبل اسے علاقے میں ایک خودکش حملے کے بعد خوف اور غیر یقینی کی فضا قائم تھی۔ اسی دوران جب لیفٹیننٹ کرنل کی گاڑی اس علاقے سے گزر رہی تھی تو مسلح افراد نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

 

ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل کو شبہ ہوا کہ یہ ممکنہ طور پر کالعدم ٹی ٹی پی کا ناکہ ہو سکتا ہے، جس پر انہوں نے گھبراہٹ میں پستول نکالا اور گاڑی موڑنے کی کوشش کی۔ اسی دوران گاڑی پر فائرنگ شروع ہو گئی۔ لیفٹیننٹ کرنل نے جان بچانے کی کوشش کی، لیکن انہیں گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

 

عینی شاہدین نے بتایا کہ کرنل کی گاڑی بے قابو ہو کر قریبی کھیتوں میں جا گری، اور حملہ آور اس دوران بھی گاڑی پر مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔

 

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے نور عالم محسود اور مصباح الدین محسود گروپ کے مراکز پر چھاپے مارے، تاہم ذرائع کے مطابق ملزمان پہلے ہی فرار ہو چکے تھے۔

 

ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے جوڑا گیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ان کی کارروائی نہیں تھی، بلکہ گوڈ طالبان کی تھیں، جنہیں مقامی طور پر "امن کمیٹی" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ خاص طور پر نور عالم محسود گروپ سے اس کا تعلق جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم واقعے کے مقام پر پہلے سے مصباح الدین محسود گروپ کے مراکز موجود تھے۔

 

ذرائع نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد مقامی صحافیوں کو ہدایت کی گئی کہ فائرنگ کرنے والوں کو "نامعلوم افراد" قرار دیا جائے اور واقعے کو ٹی ٹی پی سے منسوب نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ گوڈ طالبان کے متعدد ٹھکانے خالی کر دیے گئے جبکہ متعلقہ عناصر روپوش ہو گئے ہیں۔

 

واضح رہے کہ پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے وہ عسکریت پسند جو ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیں یا سرینڈر کریں، مقامی سطح پر عام طور پر "امن کمیٹی" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

 

بعض علاقوں میں یہ گروپ سیکیورٹی فورسز کی سرپرستی میں مسلح رہتے ہوئے سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ان گروپوں کے کردار اور حیثیت پر ماضی میں بھی سوالات اٹھائے جا چکے ہیں۔

 

حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی مؤقف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C