15/January/2026

گرین لینڈ پر عالمی کشیدگی میں اضافہ، یورپی ممالک کے فوجی دستے پہنچنا شروع

👁️ 181 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
گرین لینڈ پر عالمی کشیدگی میں اضافہ، یورپی ممالک کے فوجی دستے پہنچنا شروع

گرین لینڈ پر عالمی کشیدگی میں اضافہ، یورپی ممالک کے فوجی دستے پہنچنا شروع

نُوک (ڈیلی اردو/روئٹرز/اے پی/اے ایف پی) آرکٹک کے اسٹریٹجک یورپی جزیرے گرین لینڈ پر عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں یورپی ممالک کے فوجی دستے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

 

گرین لینڈ کے دارالحکومت نُوک سے جمعرات 15 جنوری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کشیدگی کم کرنے میں ناکام رہے، بلکہ آرکٹک خطے میں اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے درمیان گرین لینڈ کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔

 

گرین لینڈ اگرچہ وسیع خودمختاری رکھتا ہے، تاہم قانونی طور پر یہ شمالی یورپی ملک ڈنمارک کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور کوپن ہیگن اس کے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔

 

ڈنمارک اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ امریکہ گرین لینڈ کو خریدنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم یہ جزیرہ کسی بھی صورت واشنگٹن کے کنٹرول میں آنا چاہیے۔

 

بدھ 14 جنوری کو صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ کے حوالے سے ’’مکمل کنٹرول سے کم کوئی بھی آپشن‘‘ قابل قبول نہیں ہو گا۔ اس بیان نے ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں شدید تشویش پیدا کر دی۔

 

ماضی میں یورپی رہنما صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کو طنزاً مسترد کرتے رہے، تاہم اب اس معاملے کو یورپی۔امریکی تعلقات میں بڑھتے دباؤ کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

اسی پس منظر میں کئی یورپی ممالک نے گرین لینڈ پر ڈنمارک کی ملکیت اور کنٹرول کو بین الاقوامی قانون کے مطابق تسلیم کرتے ہوئے جزیرے کے دفاع اور سلامتی پر غور شروع کر دیا ہے۔

نُوک سے ملنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کے رکن اور غیر رکن ممالک کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچ رہے ہیں، جن میں جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے شامل ہیں۔

 

جرمنی اور فرانس یورپی یونین کے دو بڑے اور بااثر رکن ممالک ہیں، جبکہ سویڈن اور ناروے ڈنمارک کی طرح اسکینڈے نیویا خطے کی ریاستیں ہیں۔ سویڈن یورپی یونین کا رکن ہے، جبکہ ناروے یورپی یونین کا حصہ نہیں۔

 

ادھر کوپن ہیگن میں ڈینش حکومت نے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

 

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق فرانسیسی فوج کا ایک دستہ پہلے ہی نُوک میں موجود ہے جو مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لے رہا ہے، جبکہ مزید فرانسیسی فوجی بھی گرین لینڈ روانہ کیے جا رہے ہیں۔

 

اسی طرح جرمنی نے جمعرات کے روز اپنے فوجی دستے تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ سویڈن اور ناروے کے فوجی یا تو نُوک پہنچ چکے ہیں یا راستے میں ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C