گرین لینڈ پر عالمی کشیدگی میں اضافہ، یورپی ممالک کے فوجی دستے پہنچنا شروع
👁️ 181 بار دیکھا گیا
گرین لینڈ پر عالمی کشیدگی میں اضافہ، یورپی ممالک کے فوجی دستے پہنچنا شروع
نُوک (ڈیلی اردو/روئٹرز/اے پی/اے ایف پی) آرکٹک کے اسٹریٹجک یورپی جزیرے گرین لینڈ پر عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں یورپی ممالک کے فوجی دستے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
گرین لینڈ کے دارالحکومت نُوک سے جمعرات 15 جنوری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کشیدگی کم کرنے میں ناکام رہے، بلکہ آرکٹک خطے میں اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے درمیان گرین لینڈ کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
گرین لینڈ اگرچہ وسیع خودمختاری رکھتا ہے، تاہم قانونی طور پر یہ شمالی یورپی ملک ڈنمارک کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور کوپن ہیگن اس کے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔
ڈنمارک اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ امریکہ گرین لینڈ کو خریدنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم یہ جزیرہ کسی بھی صورت واشنگٹن کے کنٹرول میں آنا چاہیے۔
بدھ 14 جنوری کو صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ کے حوالے سے ’’مکمل کنٹرول سے کم کوئی بھی آپشن‘‘ قابل قبول نہیں ہو گا۔ اس بیان نے ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں شدید تشویش پیدا کر دی۔
ماضی میں یورپی رہنما صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کو طنزاً مسترد کرتے رہے، تاہم اب اس معاملے کو یورپی۔امریکی تعلقات میں بڑھتے دباؤ کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسی پس منظر میں کئی یورپی ممالک نے گرین لینڈ پر ڈنمارک کی ملکیت اور کنٹرول کو بین الاقوامی قانون کے مطابق تسلیم کرتے ہوئے جزیرے کے دفاع اور سلامتی پر غور شروع کر دیا ہے۔
نُوک سے ملنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کے رکن اور غیر رکن ممالک کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچ رہے ہیں، جن میں جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے شامل ہیں۔
جرمنی اور فرانس یورپی یونین کے دو بڑے اور بااثر رکن ممالک ہیں، جبکہ سویڈن اور ناروے ڈنمارک کی طرح اسکینڈے نیویا خطے کی ریاستیں ہیں۔ سویڈن یورپی یونین کا رکن ہے، جبکہ ناروے یورپی یونین کا حصہ نہیں۔
ادھر کوپن ہیگن میں ڈینش حکومت نے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق فرانسیسی فوج کا ایک دستہ پہلے ہی نُوک میں موجود ہے جو مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لے رہا ہے، جبکہ مزید فرانسیسی فوجی بھی گرین لینڈ روانہ کیے جا رہے ہیں۔
اسی طرح جرمنی نے جمعرات کے روز اپنے فوجی دستے تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ سویڈن اور ناروے کے فوجی یا تو نُوک پہنچ چکے ہیں یا راستے میں ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرونز مار گرائے گئے، امریکی سینٹرل کمانڈ
13/June/2026 👁️ 3 بار دیکھا گیا
بنوں میں دہشت گرد کمانڈر سمیت 3 افراد ہلاک، 2 لاشیں برآمد
13/June/2026 👁️ 5 بار دیکھا گیا
امریکہ ایران معاہدے پر اندرونی اختلافات سامنے آ گئے
13/June/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا چکا، وزیراعظم شہباز شریف
13/June/2026 👁️ 117 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے مجوزہ معاہدے کا اسرائیل حصہ نہیں، وزیراعظم نتین یاہو
13/June/2026 👁️ 198 بار دیکھا گیا
بنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات، دو پولیس اہلکار ہلاک
13/June/2026 👁️ 139 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8816 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4527 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3257 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2437 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2080 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1884 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C