افغانستان دہشتگردی کی لپیٹ میں: داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی بلا روک ٹوک سرگرم، سیگار رپورٹ
👁️ 398 بار دیکھا گیا
افغانستان دہشتگردی کی لپیٹ میں: داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی بلا روک ٹوک سرگرم، سیگار رپورٹ
واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکا کے "ادارہ برائے بازسازی افغانستان" (سیگار) نے اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد تنظیمیں جیسے داعش خراسان، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بغیر کسی روک ٹوک کے آزادانہ سرگرم ہیں، جبکہ طالبان کی زیرِ قیادت حکومت بدترین بدانتظامی، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔
رپورٹ کے مطابق، طالبان کی حکومت میں افغانستان ایک مرتبہ پھر دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔ طالبان نے دوحہ معاہدے میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا، لیکن سیگار کے مطابق، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ داعش خراسان اقلیتوں، غیرملکی شہریوں، اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور سفارتکاروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
دہشتگرد گروپوں کی موجودگی اور طالبان کی مبینہ حمایت
رپورٹ میں بتایا گیا کہ داعش خراسان بدخشان، نورستان اور کنڑ کے پہاڑی علاقوں میں مضبوط ٹھکانے بنا چکی ہے اور انسدادِ دہشتگردی اقدامات کے باوجود نہ صرف مزاحمت کر رہی ہے بلکہ مسلسل خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال بھی رہی ہے۔
سیگار کے مطابق، تحریک طالبان پاکستان کے تقریباً 6,500 جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، جو زیادہ تر مشرقی صوبوں میں سرگرم ہیں، اور ان جنگجوؤں کو طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔
انسداد منشیات: طالبان کی ناکامی اور اسمگلنگ جاری
سیگار نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ اگرچہ طالبان نے 2022 میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کی تھی، لیکن اس کے باوجود مصنوعی منشیات اور اسمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پڑوسی ممالک میں اب بھی بھاری مقدار میں تریاک اور میتھ (Methamphetamine) پکڑی جا رہی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسمگلنگ بدستور جاری ہے۔
بدعنوانی اور امریکی امداد کا زیاں
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اپریل تا جون 2025 کے دوران سات مالیاتی آڈٹ کیے گئے، جن میں 2 لاکھ 14 ہزار ڈالر کے مشکوک اخراجات سامنے آئے۔ سیگار نے ایک بڑے مقدمے کا بھی حوالہ دیا جس میں سابق امریکی دفاعی ٹھیکیدار ڈگلس ایڈلمین نے مالی جرائم اور ٹیکس چوری کا اعتراف کیا، جسے امریکی وزارت انصاف کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس فراڈ قرار دیا گیا ہے۔
امریکا کی امداد کا مکمل خاتمہ
سیگار نے تصدیق کی ہے کہ 2025 میں امریکا نے افغانستان کے لیے تمام سرکاری امداد بند کر دی، جو گزشتہ 24 برسوں میں پہلی بار ہوا ہے۔ صرف چند تعلیمی اور انسدادی منصوبے محدود پیمانے پر جاری ہیں، جنہیں اقوام متحدہ اور غیرملکی دفاتر کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
طالبان کا امریکی اثاثوں پر قبضہ
طالبان نے بعض امریکی امدادی پروگراموں کے بند ہونے کو جواز بناتے ہوئے گاڑیاں، حساس سیکیورٹی آلات اور دیگر قیمتی اثاثے قبضے میں لے لیے ہیں۔
انسانی بحران اور امداد کی قلت
اقوام متحدہ کے مطابق، امریکی امداد کی بندش کے بعد افغانستان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ سیگار کے مطابق، 12.6 ملین افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 90 فیصد بچے غذائیت کی کمی سے متاثر ہیں۔ 422 صحت مراکز بند ہو چکے ہیں، جس سے 3 ملین سے زائد افراد کی زندگی خطرے میں ہے۔
خواتین کے خلاف ممنوع پالیسیاں
طالبان حکومت کو خواتین پر سخت ترین پابندیاں عائد کرنے والی حکومت قرار دیا گیا ہے۔ تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کے باعث خواتین شدید متاثر ہوئی ہیں۔ افغانستان اس وقت خواتین کے حقوق کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بدترین ملک ہے۔
اقتصادی بحران اور طالبان کا غیرشفاف نظام
سیگار کے مطابق افغانستان میں معیشت جمود کا شکار ہے۔ اگرچہ افغانی کرنسی کچھ مستحکم ہوئی ہے، مگر طالبان شفاف اور مؤثر اقتصادی نظام بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ امدادی رقوم کے غلط استعمال اور کرپشن نے حالات مزید ابتر کر دیے ہیں۔
عدالتی نظام کا زوال
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان عدالتی اداروں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں، اور مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے عدلیہ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیصلے غیرشفاف، جانبدار اور خوف کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کا ردعمل اور تنہائی
اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی ممالک طالبان کے ساتھ روابط کم کر چکے ہیں۔ تاہم، روس نے طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا ہے، جو خطے میں ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان بین الاقوامی اصولوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، جس کے باعث افغانستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔
سیگار کا الوداعی نوٹ
یہ رپورٹ سیگار کی 68ویں اور آخری سہ ماہی رپورٹ ہے، جو 2008 سے افغانستان میں امریکا کی بازسازی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ سیگار نے اعتراف کیا ہے کہ 2,459 امریکی فوجیوں کی ہلاکت، ہزاروں زخمی اور دو ٹریلین ڈالر کے اخراجات کے باوجود امریکا اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
سیگار نے یہ بھی واضح کیا کہ برسوں کے انتباہات اور رپورٹس کو امریکی قیادت نے نظر انداز کیا، جس کا نتیجہ آج افغانستان کی تباہ حال صورتحال کی صورت میں سامنے ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ٹانک میں فوجی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 اہلکار ہلاک، 30 زخمی، مزید ہلاکتوں کا خدشہ
24/July/2026 👁️ 422 بار دیکھا گیا
کوہاٹ میں دہشت گردوں کی فائرنگ، کسٹم اہلکار ہلاک، ایک شخص زخمی
24/July/2026 👁️ 303 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن میں 4 دہشت گرد ہلاک
24/July/2026 👁️ 285 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں داعش کا حملہ، سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ ہلاک، ایڈیشنل سیشن جج زخمی
24/July/2026 👁️ 397 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک
23/July/2026 👁️ 512 بار دیکھا گیا
بلوچستان کے تین اضلاع سے سات افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد
23/July/2026 👁️ 505 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8976 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4844 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3718 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3589 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2575 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2328 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C