22/September/2026

اقوام متحدہ میں ٹرمپ کا سخت خطاب، ایران کو مذاکرات یا تباہی کی دھمکی، عالمی برادری سے معاشی بائیکاٹ کی اپیل

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اقوام متحدہ میں ٹرمپ کا سخت خطاب، ایران کو مذاکرات یا تباہی کی دھمکی، عالمی برادری سے معاشی بائیکاٹ کی اپیل

اقوام متحدہ میں ٹرمپ کا سخت خطاب، ایران کو مذاکرات یا تباہی کی دھمکی، عالمی برادری سے معاشی بائیکاٹ کی اپیل

نیویارک(ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران، یوکرین جنگ، مصنوعی ذہانت، منشیات کے خلاف امریکی کارروائیوں، وینزویلا، کیوبا، گرین لینڈ اور عالمی ادارے کے کردار سمیت متعدد اہم عالمی معاملات پر اپنی پالیسی واضح کی۔

تقریباً 37 منٹ پر محیط خطاب میں ٹرمپ نے ایک طرف ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کا دفاع کیا تو دوسری جانب تہران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا راستہ بھی کھلا رکھنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے عالمی ممالک سے تہران کو معاشی طور پر تنہا کرنے میں واشنگٹن کا ساتھ دینے کی اپیل بھی کی۔

ایران کو مذاکرات یا انتہائی اقدام کا انتباہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے سامنے ایران کے حوالے سے دو راستے ہیں، ایک ایسا معاہدہ جس کے ذریعے ایران دوبارہ تعمیر نو اور ترقی کی جانب بڑھے، یا پھر انتہائی سخت فوجی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے ایران کے بارے میں کہا کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ اسلامی جمہوریہ کو ’’تباہ‘‘ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے پیش گوئی کی کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق امریکی و اسرائیلی کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون پروگرام اور بعض دیگر عسکری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق اس خطاب کے متن سے نہیں ہوتی۔

دنیا سے ایران کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل

امریکی صدر نے جنرل اسمبلی میں موجود ممالک سے کہا کہ وہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی معاشی دباؤ کی مہم میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ممالک مشترکہ طور پر ایران کو معاشی طور پر تنہا کریں تو ان کے بقول خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

ٹرمپ نے ایران پر دہشتگردی کی حمایت اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ان کی حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔

روس یوکرین جنگ، مذاکرات کے ذریعے حل کی امید

یوکرین جنگ کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ روس اور یوکرین کی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور انہیں توقع ہے کہ یہ تنازع مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں فریق جنگ سے تھک چکے ہیں اور معاملہ ان کی توقع سے زیادہ تیزی سے حل ہوسکتا ہے۔ تاہم اسی دوران روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث جنگ کے خاتمے سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کے لیے کسی واضح ٹائم فریم کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مصنوعی ذہانت کو ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ قرار دینے کی بات

مصنوعی ذہانت کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس شعبے میں ترقی کی رفتار کو محدود نہیں کرے گا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی بات کی اور AI سے متعلق بعض سنگین خطرات کے انتباہات کو ’’فریب‘‘ قرار دیا۔

ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس ٹیکنالوجی میں چین سمیت دیگر ممالک سے آگے ہے اور وہ صنعتی انقلاب سے بھی بڑی تبدیلی کا باعث بننے والی ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکنے کے حق میں نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے اس شعبے کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کرسکتے ہیں۔

عالمی فوجداری عدالت پر شدید تنقید

ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور رکن ممالک سے عدالت سے الگ ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ امریکی فوجی اہلکاروں کے خلاف غیر منصفانہ کارروائیوں کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے امریکہ کے فوجیوں کو ایسے مقدمات سے محفوظ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور عدالت کے موجودہ کردار کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دیا۔

وینزویلا اور منشیات کے خلاف امریکی کارروائیاں

امریکی صدر نے منشیات کے اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف امریکی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خطے میں اپنی طاقت دوبارہ استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے منشیات کے بعض گروہوں کو دہشتگرد تنظیموں کے زمرے میں رکھتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی حمایت کی۔

وینزویلا کے حوالے سے ٹرمپ نے امریکی اقدامات کو کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مغربی نصف کرہ میں اپنی قومی سلامتی کے لیے ضروری مفادات کے تحفظ کی خاطر اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

کیوبا کو ’’ناکام ریاست‘‘ قرار دے دیا

ٹرمپ نے کیوبا کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ناکام ریاست قرار دیا اور کہا کہ امریکہ میں کمیونزم کی واپسی نہیں ہوگی جبکہ ان کے بقول کیوبا میں آزادی آئے گی۔

ان کے ان ریمارکس کے دوران اقوام متحدہ میں موجود کیوبا کے وفد نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

اقوام متحدہ پر تنقید، اصلاحات کا دعویٰ

ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ عالمی ادارے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی انتظامیہ کی جانب سے بجٹ میں کمی اور عملے کی تعداد گھٹانے سمیت مختلف اقدامات کو اصلاحات قرار دیا۔

امریکی صدر نے عالمی اداروں پر الزام عائد کیا کہ غیر منتخب عالمی بیوروکریسی اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں بڑی صلاحیت موجود ہے اور اسے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنا چاہیے۔

گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں توسیع

ٹرمپ کے دورہ نیویارک کے دوران امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ایک نیا سکیورٹی معاہدہ بھی سامنے آیا، جس کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق معاہدہ گرین لینڈ کو امریکی علاقہ بنانے کے ٹرمپ کے مطالبے تک نہیں گیا، تاہم اس میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں توسیع کی اجازت شامل ہے۔ ٹرمپ نے اسے آرکٹک خطے میں سلامتی اور روس و چین کے ممکنہ اثر و رسوخ کے تناظر میں اہم قرار دیا۔

خطاب میں عالمی طاقت کے استعمال کا واضح پیغام

ٹرمپ کی تقریر میں سفارتکاری کے ساتھ فوجی اور معاشی دباؤ کو امریکی خارجہ پالیسی کے اہم ذرائع کے طور پر پیش کیا گیا۔ ایران کے معاملے میں انہوں نے مذاکرات کا امکان برقرار رکھتے ہوئے انتہائی فوجی اقدام کی دھمکی دی، جبکہ یوکرین کے معاملے میں مذاکرات کے ذریعے حل کی امید ظاہر کی۔

اقوام متحدہ میں ان کا خطاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران سے متعلق جنگ، عالمی توانائی کی قیمتیں، روس یوکرین تنازع، مصنوعی ذہانت اور عالمی اداروں کی ساکھ اہم بین الاقوامی بحث کا مرکز ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C