22/September/2026

خیبر پختونخوا کے این ایف سی فنڈز پر عطا تارڑ کے سوالات، دہشتگردی کے لیے مختص رقم کے استعمال پر جواب طلب

👁️ 78 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا کے این ایف سی فنڈز پر عطا تارڑ کے سوالات، دہشتگردی کے لیے مختص رقم کے استعمال پر جواب طلب

خیبر پختونخوا کے این ایف سی فنڈز پر عطا تارڑ کے سوالات، دہشتگردی کے لیے مختص رقم کے استعمال پر جواب طلب

پشاور(ڈیلی اردو) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے لیے ملنے والے اضافی فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے صوبائی حکومت سے مالی وسائل کے استعمال کی وضاحت طلب کی ہے۔

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ اور امن و امان سے متعلق اخراجات کے لیے اضافی ایک فیصد حصہ دیا گیا، جو کئی برس سے جاری ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس مد میں صوبے کو ملنے والے اربوں روپے کہاں خرچ کیے گئے۔

وزارت خزانہ کے مطابق جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبر پختونخوا کو دہشتگردی سے متعلق اخراجات کے لیے اضافی منتقلی کی مد میں تقریباً 705 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ساتواں این ایف سی ایوارڈ تاحال اس لیے نافذ ہے کیونکہ نیا ایوارڈ حتمی شکل اختیار نہیں کرسکا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے چیلنج کا مسلسل سامنا ہے، بالخصوص سرحدی اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کارروائیاں کرتی رہتی ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں ترقیاتی ضروریات اور عوامی مسائل پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

عطا تارڑ نے صوبائی وسائل کو عوامی فلاح اور ترقی کے لیے استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے حوالے سے بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت امن و امان میں خلل ڈالنے کی کسی کوشش کی اجازت نہیں دے گی۔

وفاقی وزیر نے اپنے دورہ خیبر پختونخوا کے دوران کوہاٹ میں حالیہ سکیورٹی واقعے کے متاثرین اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اہلکاروں، پولیس اور دیگر شہریوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

عطا تارڑ نے دہشتگردی کے خلاف رپورٹنگ کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا تاکہ ان کے خاندانوں کے لیے مناسب معاونت کا طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔ انہوں نے پشاور کے صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے دوران نقصان پہنچنے والی ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو بحال کر دیا گیا ہے اور صحافیوں کو وہاں پوڈکاسٹ اور وی لاگز کی ریکارڈنگ سمیت دیگر میڈیا سرگرمیوں کے لیے سہولیات دستیاب ہونی چاہئیں۔

وفاقی وزیر نے دیگر سیاسی امور پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ ان کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے مجوزہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کے معاملے پر مشاورت کی بات کی ہے۔

عطا تارڑ نے موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور دیگر تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے رعایتی پٹرول کی فراہمی کا بھی ذکر کیا اور اسے عوام کو ریلیف دینے کا حکومتی اقدام قرار دیا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے پارٹی کے اندر فیصلوں کے اختیار کے حوالے سے سوالات اٹھائے اور کہا کہ پارٹی میں فیصلہ سازی اور اس پر عمل درآمد کے معاملات واضح نہیں ہیں۔

خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے ملنے والے این ایف سی فنڈز کا استعمال ایک عرصے سے وفاق اور صوبے کے درمیان مالی و انتظامی بحث کا حصہ رہا ہے۔ عطا تارڑ کے حالیہ بیانات کے بعد ان فنڈز کے استعمال، نگرانی اور سکیورٹی اخراجات میں ان کے کردار پر بحث مزید نمایاں ہوگئی ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C