08/November/2026

ایران : جنوری کے احتجاج کے دوران گرفتار تین افراد کو پھانسی، اسرائیل اور امریکہ کے لیے کام کرنے کا الزام

👁️ 46 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران : جنوری کے احتجاج کے دوران گرفتار تین افراد کو پھانسی، اسرائیل اور امریکہ کے لیے کام کرنے کا الزام

ایران : جنوری کے احتجاج کے دوران گرفتار تین افراد کو پھانسی، اسرائیل اور امریکہ کے لیے کام کرنے کا الزام

تہران (ڈیلی اردو) ایران میں جنوری 2026 کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے تین افراد کو پھانسی دے دی گئی۔ ایرانی عدلیہ نے تصدیق کی ہے کہ حسن دیوبند، حمید کاظمی اور رضا زنگانہ کی سزائے موت پر اتوار 8 نومبر کی صبح عمل درآمد کیا گیا۔

ایرانی عدلیہ سے وابستہ میزان نیوز ایجنسی کے مطابق تینوں افراد کو اسرائیل اور امریکہ کے لیے مبینہ طور پر آپریشنل سرگرمیوں میں حصہ لینے، مسلح مظاہروں میں شرکت اور قومی سلامتی کے خلاف کارروائیوں کے الزامات میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ایرانی سپریم کورٹ کی جانب سے سزاؤں کی توثیق کے بعد انہیں پھانسی دی گئی۔

ایرانی حکام کا الزام تھا کہ تینوں افراد نے 8 اور 9 جنوری کو صوبہ البرز کے شہر کرج میں ہونے والے مظاہروں کے دوران آتش گیر بم، دستی ساختہ گرینیڈ اور آتشیں اسلحہ استعمال کیا، سرکاری و عوامی عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور بعض تنصیبات کو آگ لگائی۔ ان پر ایک بجلی کے سب اسٹیشن کو تباہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا، جس کے باعث شہر کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ حسن دیوبند کو 11 جنوری کو سرکاری املاک پر حملوں اور تشدد پر اکسانے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس مقدمے میں مزید 10 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جن پر مظاہروں میں شرکت اور مبینہ طور پر دیوبند کے زیر نگرانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام تھا۔

ایرانی عدلیہ کے مطابق مقدمے کے دیگر آٹھ ملزمان کو پانچ سے 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں، جبکہ پھانسی پانے والے تینوں افراد کی جائیدادیں ضبط کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

یہ مظاہرے دسمبر 2025 کے اواخر میں ایران میں مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے تھے، تاہم 8 اور 9 جنوری 2026 کو ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج نے شدت اختیار کرلی اور حکومت مخالف مظاہروں کی شکل اختیار کرگیا۔ ایرانی حکام نے ان مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد اور تخریبی کارروائیوں کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی حکام نے احتجاج کے دوران 3 ہزار سے زائد ہلاکتوں کا اعتراف کیا تھا، تاہم حکومت مخالف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سے کہیں زیادہ جانی نقصان کی اطلاعات دی تھیں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج سے متعلق مقدمات میں سزائے موت کے استعمال، عدالتی کارروائیوں کی شفافیت اور زیر حراست افراد کے قانونی حقوق پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر تنظیموں نے ایسے مقدمات میں مبینہ تشدد کے ذریعے اعترافات حاصل کرنے اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C