08/November/2026

دہشتگردوں سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں، ہتھیار اٹھانے والوں کو اسی زبان میں جواب دیا جائے گا، گورنر خیبرپختونخوا

👁️ 49 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دہشتگردوں سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں، ہتھیار اٹھانے والوں کو اسی زبان میں جواب دیا جائے گا، گورنر خیبرپختونخوا

دہشتگردوں سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں، ہتھیار اٹھانے والوں کو اسی زبان میں جواب دیا جائے گا، گورنر خیبرپختونخوا

پشاور (ڈیلی اردو) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ ریاست، آئین اور قانون کو تسلیم نہ کرنے اور ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پسپائی کی کوئی گنجائش نہیں اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اتوار کو گورنر ہاؤس پشاور میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات سے متعلق خصوصی بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کو مکمل سیاسی اور حکومتی حمایت فراہم کی جائے گی اور اس حوالے سے تمام تر ذمہ داری قبول کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ شکست ہماری لغت میں نہیں، دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں واپسی کا کوئی راستہ موجود نہیں۔ ماضی میں سکیورٹی فورسز کو سیاسی اور حکومتی سطح پر مطلوبہ حمایت فراہم نہ کرنا ایک بڑی خامی تھی، تاہم اب اس جنگ کو صرف سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے اجتماعی قومی ذمہ داری کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ حکام کی موجودگی میں پشاور میں ایپکس کمیٹی کا ایک بڑا اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبرپختونخوا کو درپیش سکیورٹی چیلنجز، پولیس کی ضروریات اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے درکار وسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاق سے 160 ارب روپے طلب کیے تھے، جس کی وفاقی حکومت نے حمایت کی، جبکہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام آباد میں فالو اپ اجلاس بھی منعقد کیے گئے۔

گورنر نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو محدود اسلحے اور چند گولیوں کے سہارے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ پولیس کو جدید اسلحہ، وافر ایمونیشن، ضروری گاڑیاں اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے ساتھ اہلکاروں کی تنخواہوں اور شہدا کے اہل خانہ کے معاوضوں میں بھی بہتری لائی جائے گی۔

انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں پولیس لائنز کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سابق قبائلی علاقوں میں پولیس کے لیے بنیادی ڈھانچے اور ضروری سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ پولیس اسٹیشنز، چوکیوں اور دفاتر کو بہتر بنانے کے ساتھ ان علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانا ضروری ہے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ دہشتگردوں کے علاوہ ان کے سہولت کاروں، معاون نیٹ ورکس اور مالی معاونت فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی ضرورت ہے۔ عوام کا اعتماد بحال کرنے اور پولیس و شہریوں کے درمیان رابطے مضبوط بنانے سے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سکیورٹی پالیسی پاکستان کے آئینی اور ریاستی اداروں کے فیصلوں کے مطابق طے ہوگی، اسلام آباد کے بجائے جلال آباد، قندھار یا کابل سے نہیں۔ ان کا الزام تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف سرگرمیوں اور بھارت کی مبینہ سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے افغان حکام کی جانب سے پشاور پر قبضے سے متعلق بیانات اور ڈرونز کی آمد کے واقعات پر ماضی میں اختیار کی گئی خاموشی کو بھی افسوسناک قرار دیا۔

گورنر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے صوبوں کے درمیان رابطہ کاری ضروری ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں سکیورٹی اور پولیس کے شعبوں میں کیے گئے مؤثر اقدامات سے بھی استفادہ کیا جائے گا تاکہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکیں، پل اور دیگر ترقیاتی منصوبے اسی وقت حقیقی معنوں میں عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں جب شہریوں کی جان و مال محفوظ ہو۔ حکومت کی ترجیحات میں نوجوانوں کو تعلیم، کھیلوں، روزگار اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا بھی شامل ہے تاکہ انہیں دہشتگردی اور انتہا پسندی سے دور رکھا جا سکے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے اور ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔ دہشتگردوں کو انہی کی زبان میں جواب دیا جائے گا اور سکیورٹی فورسز و پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے صوبے میں پائیدار امن قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

 

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 2024 سے ستمبر 2026 تک خیبرپختونخوا میں دہشتگردی اور سکیورٹی سے متعلق واقعات کے دوران 1003 فوجی اہلکار، 627 پولیس اہلکار اور 808 شہری ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق سی ٹی ڈی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، جدید سہولیات فراہم کرنے، دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات بھی مجوزہ منصوبے کا حصہ ہیں۔ 

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C