12/August/2026

بحیرہ احمر میں حوثیوں کا کارگو جہاز پر حملہ، عملے کے 6 ارکان ہلاک

👁️ 79 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بحیرہ احمر میں حوثیوں کا کارگو جہاز پر حملہ، عملے کے 6 ارکان ہلاک

بحیرہ احمر میں حوثیوں کا کارگو جہاز پر حملہ، عملے کے 6 ارکان ہلاک

 

صنعا (ڈیلی اردو) بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب کے قریب ایک مال بردار بحری جہاز پر ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے مبینہ حملے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کارگو جہاز کے عملے کے چار ارکان اور امدادی و انخلا کی کارروائیوں میں شریک دو اہلکار شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یمنی کوسٹ گارڈ کے دو ذرائع اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ دو سکیورٹی و عسکری ذرائع نے منگل 11 اگست کو بتایا کہ حملہ بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں باب المندب کے قریب کیا گیا۔

 

ذرائع کے مطابق حملے کے بعد جہاز پر موجود افراد کو بچانے اور زخمیوں و دیگر عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں۔ تاہم امدادی کارروائی کے دوران ٹیم کو بھی فائرنگ یا حملے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں ہوئیں۔

 

عملے میں پاکستانی اور انڈونیشی شہری شامل

وینگارڈ کمپنی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں جہاز کے عملے کے کم از کم دو ارکان شامل ہیں، جن میں ایک پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری بتایا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق حملے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

 

کمپنی نے بتایا کہ حملے کے بعد متاثرہ جہاز کی مدد کے لیے یمنی بحریہ کی ایک ٹیم پہنچی، تاہم اس ٹیم کو بھی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک یا زخمی ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یمنی کوسٹ گارڈ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ بحیرہ احمر کے داخلی راستے کے قریب مال بردار جہاز کو ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے نشانہ بنایا۔

ذریعے کے مطابق امدادی ٹیمیں عملے کے دیگر ارکان کو بچانے میں کامیاب ہوئیں، تاہم امدادی کارروائی کے دوران جہاز کو ایک اور حملے کا سامنا کرنا پڑا۔

 

برطانوی میری ٹائم ادارے نے حملے کی تصدیق کردی

برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے UKMTO نے بھی باب المندب کے قریب ایک کارگو جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

تاہم UKMTO نے ابتدائی طور پر جہاز کے عملے کے چار ارکان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ واقعے کے فوراً بعد سامنے آنے والی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد اور حملے کی نوعیت کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے تھے۔

بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے مال بردار جہاز پر تنزانیہ کا پرچم لہرا رہا تھا۔

 

باب المندب میں حملہ

آبنائے باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم اور تنگ بحری گزرگاہ ہے۔ یہ راستہ عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے ذریعے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔

یمن کے ساحل کے قریب واقع ہونے کے باعث خطے میں جاری تنازعات کے دوران باب المندب متعدد مرتبہ بحری حملوں اور سکیورٹی خدشات کا مرکز بن چکا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق موجودہ واقعے میں ہونے والی 6 ہلاکتیں موجودہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران بحیرہ احمر میں کسی تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں ہونے والی پہلی ہلاکتیں ہیں۔

حوثی جنگجو اس سے قبل بھی بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی اور مال بردار جہازوں کو ڈرونز، میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے سے گریز کرتے ہوئے اپنے جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل متبادل بحری راستے پر منتقل کیا۔

 

ایران، اسرائیل جنگ کے دوران بحری کشیدگی میں اضافہ

باب المندب کے قریب یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے باعث پورے خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

موجودہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مربوط فضائی حملوں سے ہوا تھا۔ اس کے بعد تنازع مختلف محاذوں تک پھیل گیا، جبکہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائیوں نے عالمی بحری تجارت اور جہاز رانی کے لیے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔

 

ایران حوثی گروپ کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی جنگجو یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے علاقوں پر قابض ہیں۔ دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی عرب سمیت خطے کے متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

 

یمنی حکام کے مطابق باب المندب کے قریب حملے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں اور متاثرہ جہاز اور اس پر سوار عملے کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات اور ہلاکتوں کی حتمی تعداد سامنے آنے کا انتظار ہے۔

 

بحیرہ احمر میں ہونے والے اس تازہ حملے نے ایک مرتبہ پھر باب المندب کی سکیورٹی اور عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی بڑے حملے کے نتیجے میں عالمی شپنگ، تجارتی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل پر وسیع اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C