22/September/2026

برطانیہ کا سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاعی فوجی معاونت دینے کا اعلان

👁️ 92 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
برطانیہ کا سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاعی فوجی معاونت دینے کا اعلان

برطانیہ کا سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاعی فوجی معاونت دینے کا اعلان

ریاض (ڈیلی اردو) برطانیہ نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں ریاض کو محدود مدت کے لیے دفاعی فوجی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے مطابق سعودی عرب کی درخواست پر رائل ایئر فورس کے ایک ’وائجر‘ طیارے کے ذریعے سعودی جنگی طیاروں کو فضائی ایندھن فراہم کیا جائے گا، جبکہ یہ مشن ابتدائی طور پر چند ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق معاونت کا مقصد سعودی طیاروں کو حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں مدد دینا ہے، نہ کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف براہِ راست حملہ کرنا۔

سعودی عرب کی درخواست پر فیصلہ

برطانوی وزیراعظم نے بتایا کہ ریاض کی جانب سے فوجی معاونت کی درخواست موصول ہونے کے بعد انہوں نے وزیر دفاع ویس سٹریٹنگ اور وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے مشاورت کی اور دفاعی فضائی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی۔ ان کے مطابق فیصلہ برطانیہ اور خطے کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

’وائجر‘ طیارہ قبرص سے آپریٹ کرے گا

برطانوی حکام کے مطابق امدادی مشن آئندہ چند روز میں شروع ہوسکتا ہے اور اس کے لیے ایک رائل ایئر فورس وائجر طیارہ استعمال کیا جائے گا، جو قبرص میں واقع آر اے ایف اکروتیری اڈے سے آپریٹ کرے گا۔ یہ طیارہ سعودی جنگی طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے وہ طویل عرصے تک دفاعی مشن انجام دے سکیں گے۔

دفاعی کارروائیوں تک محدود رہے گی معاونت

برطانوی حکام کے مطابق موجودہ منصوبے میں سعودی طیاروں کو حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں مدد دینا شامل ہے۔ برطانیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی فضائی ایندھن بھرنے کی سہولت کو حوثی ٹھکانوں پر براہِ راست حملوں کے لیے استعمال کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے

حالیہ دنوں میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں دارالحکومت ریاض بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے یمن میں پیش قدمی اور بحیرہ احمر کے اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

مشن محدود مدت کیلئے ہوگا

برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو دی جانے والی موجودہ فوجی معاونت مستقل نوعیت کی نہیں بلکہ محدود مدت کے لیے ہے۔ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر مشن چند ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے اور صورتحال کے مطابق اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں حالیہ شدت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی وسیع علاقائی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور اہم تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا بھی اس تعاون کے فیصلے کی وجوہات میں شامل ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C