داعش کے ہاتھوں عسکری تربیت پانے والے 2000 ایزدی بچوں کی بحالی یقینی بنائی جائے، امریکہ کی عراق کو سفارش
👁️ 105 بار دیکھا گیا
داعش کے ہاتھوں عسکری تربیت پانے والے 2000 ایزدی بچوں کی بحالی یقینی بنائی جائے، امریکہ کی عراق کو سفارش
بغداد(ڈیلی اردو) امریکی جامعہ جارج ٹاؤن سے منسلک مرکز برائے سیکیورٹی اسٹڈیز نے جمعہ کے روز ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ عراق میں ایزدی بچوں کی منظم عسکری تربیت اور ان کے استعمال کو نظر انداز کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی توجہ کا مرکز عام طور پر ایزدی لڑکیوں کی جنسی غلامی کی المناک داستانیں بنی رہیں، مگر ان لڑکوں کی مصیبتوں کو نظر انداز کر دیا گیا جنہیں داعش نے قتل اور تشدد کا اوزار بنا دیا۔
رپورٹ کا عنوان “وہ جنہوں نے جہنم دیکھا” تھا، جس میں داعش کے ہاتھوں سنجار میں ایزدی قوم پر حملے کے بعد پیش آنے والے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا نے خواتین اور لڑکیوں کی جنسی غلامی پر توجہ دی، لیکن ایزدی لڑکوں کو جبراً جنگجو بنانے کی ہولناکیوں کو نظر انداز کیا گیا، جو کہ ایزدی قوم کی نسل کشی کی داعش کی گھناؤنی حکمت عملی کا ایک مکمل حصہ تھا۔
بچوں کی عسکری تربیت: ایک منظم منصوبہ
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایزدی بچوں کو محض حادثاتی متاثرین کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ داعش نے انہیں اپنی نسل کش پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے ایک باقاعدہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جس میں زبردستی مذہبی تعلیم، ذہنی غسل اور عسکری تربیت شامل تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ بچے شدید جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے گزرے، جن میں تشدد، غذائی قلت، اعضا کا ضیاع اور دائمی بیماریوں کا سامنا شامل تھا۔ تقریباً 2000 ایزدی بچے داعش کی قید سے فرار ہوئے، مگر ان کی جسمانی اور نفسیاتی حالت انتہائی خراب ہے اور انہیں اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
نفسیاتی صدمے: بم بنے بچے
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ ان بچوں میں شدید ذہنی دباؤ، ماضی کی تکلیف دہ یادیں اور ڈراؤنے خواب عام ہیں۔ 8 سے 14 سال کی عمر کے 81 سابق ایزدی بچوں پر کی گئی کلینیکل تحقیق کے مطابق:
48.3% بچے پی ٹی ایس ڈی (Post-Traumatic Stress Disorder)
45.6% بچے ڈپریشن
45.8% بچے اضطرابی کیفیت (Anxiety Disorder) کا شکار ہیں۔
رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر ان بچوں کو مناسب نفسیاتی مدد نہ دی گئی تو یہ صرف انفرادی اذیت نہیں بلکہ آئندہ کے پرتشدد رجحانات کی بنیاد بن سکتی ہے۔
“تم کافر ہو” — داعش کا عقائدی جبر
رپورٹ کے مطابق، داعش نے ان بچوں کو ان کے ایزدی مذہب سے زبردستی منحرف کر کے اسلام قبول کروایا، ان پر عربی اسلامی نام تھوپے، کُردی زبان بولنے سے روکا، اور انہیں قرآن اور داعش کے نعرے رٹائے۔ حتیٰ کہ سات سال کی عمر کے بچوں کو بھی پانچ وقت کی نماز کی سختی سے تربیت دی گئی اور ایزدی عقیدے کو “شیطان پرستی” قرار دے کر ان کی نفسیات کو مکمل مسخ کیا گیا۔
ایک 16 سالہ سابق قیدی بچے نے بتایا:
“ہمیں کہا گیا کہ تم ایزدی ہو، کافر ہو، ہم تمہیں دینِ حق کی طرف لانا چاہتے ہیں تاکہ تم جنت میں جا سکو۔”
یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ داعش ایزدی شناخت کو مکمل طور پر مٹانے کی کوشش کر رہا تھا۔
شناخت کی مسخ شدگی اور معاشرتی علیحدگی
بعض ایزدی بچوں نے رہائی کے بعد اپنی ہی ماؤں اور خاندان کو “کافر” کہہ کر مسترد کر دیا۔ ایک ماں نے بتایا کہ اس کا بیٹا، جو دو سال داعش کی قید میں رہا، اب خود کو صرف داعش کا فرد سمجھتا ہے۔ ایک اور بچے نے دوبارہ داعش میں شمولیت کی کوشش کی۔
یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ داعش نے شناخت کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور ان بچوں کو اپنی ہی قوم سے جدا کر دیا۔
بحالی کا سفر: محض واپسی نہیں، ایک جدوجہد
رپورٹ کہتی ہے کہ ان بچوں کو دوبارہ معاشرے میں شامل کرنا محض گھر واپس لانے کا عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی جدوجہد ہے۔ یہ بچے تعلیم، زبان اور خاندانی رشتوں سے محروم ہو چکے ہیں، اور خود ان کے اہل خانہ بھی ان سے خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے اندر داعش سے وابستگی کی وجہ سے اکثر انہیں معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا ہوتا ہے۔
قانونی خلاء: ایزدی بچوں کی شمولیت ضروری
اگرچہ عراقی پارلیمان نے 2021 میں ایزدی خواتین و بچیوں کے لیے “قانونِ نجات” منظور کیا تھا، مگر رپورٹ بتاتی ہے کہ اس میں ان لڑکوں کے لیے کوئی خاص شق شامل نہیں، جنہیں داعش نے جنگجو بنا دیا۔ چنانچہ یہ لڑکے ابھی تک ریاستی بحالی، نفسیاتی امداد اور تعلیمی سہولتوں سے بڑی حد تک محروم ہیں۔
سفارشات: قانون میں ترمیم اور عالمی امداد کی ضرورت
رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
ایزدی نجات قانون میں ترمیم کر کے ان لڑکوں کو بھی باقاعدہ طور پر متاثرہ قرار دیا جائے۔
انہیں وظائف، طبی امداد، نفسیاتی علاج اور بحالی کے مکمل اقدامات دیے جائیں۔
بین الاقوامی برادری اور عراقی حکومت ثقافتی اور نفسیاتی حساسیت کے ساتھ ذہنی صحت کے مراکز قائم کریں تاکہ یہ نوجوان دوبارہ انتہاپسندی کا شکار نہ بنیں۔
رپورٹ کا سخت انتباہ تھا کہ اگر ان بچوں کو ان کے ایزدی ورثے، شناخت اور معاشرے سے جوڑا نہ گیا تو وہ مستقل ذہنی انتشار، بے زاری اور انتقامی جذبات کا شکار رہیں گے، جو ان کے دوبارہ شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ٹانک میں فوجی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 اہلکار ہلاک، 30 زخمی، مزید ہلاکتوں کا خدشہ
24/July/2026 👁️ 425 بار دیکھا گیا
کوہاٹ میں دہشت گردوں کی فائرنگ، کسٹم اہلکار ہلاک، ایک شخص زخمی
24/July/2026 👁️ 307 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن میں 4 دہشت گرد ہلاک
24/July/2026 👁️ 287 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں داعش کا حملہ، سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ ہلاک، ایڈیشنل سیشن جج زخمی
24/July/2026 👁️ 400 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک
23/July/2026 👁️ 512 بار دیکھا گیا
بلوچستان کے تین اضلاع سے سات افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد
23/July/2026 👁️ 505 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8976 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4845 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3718 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3589 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2575 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2328 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C