12/September/2026

دہشتگردی میں اضافہ ، خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع ہارڈ ایریاز قرار

👁️ 54 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دہشتگردی میں اضافہ ، خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع ہارڈ ایریاز قرار

دہشتگردی میں اضافہ ، خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع ہارڈ ایریاز قرار

اسلام آباد(ڈیلی اردو) وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 6 ڈویژنز کے 26 اضلاع کو سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر ’’ہارڈ ایریاز‘‘ قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں تعینات اہل وفاقی انتظامی اور پولیس افسران کے لیے بنیادی تنخواہ کے 250 فیصد کے برابر سیکیورٹی رسک الاؤنس منظور کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا ہے۔ فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا اور الاؤنس کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی، جبکہ اس پر متعلقہ ٹیکس قوانین لاگو ہوں گے۔

ہارڈ ایریاز میں پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، مہمند، کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، اپر جنوبی وزیرستان، لوئر جنوبی وزیرستان، سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، اپر دیر، لوئر دیر، اپر چترال اور لوئر چترال شامل ہیں۔

مراسلے کے مطابق الاؤنس کا تعلق متعلقہ افسر کی مذکورہ ہائی رسک علاقے میں تعیناتی سے ہوگا اور افسر کے تبادلے کے ساتھ ہی یہ سہولت ختم ہوجائے گی۔ معطلی، خصوصی ڈیوٹی پر تعیناتی، جوائننگ ٹائم یا تربیتی مدت کے دوران بھی سیکیورٹی رسک الاؤنس قابلِ ادائیگی نہیں ہوگا۔

وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ الاؤنس پنشن یا گریجویٹی کے حساب میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوابی اور ہزارہ ڈویژن کے افسران اس مخصوص سیکیورٹی رسک الاؤنس کے حقدار نہیں ہوں گے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان علاقوں میں فرائض انجام دینے والے سرکاری اور پولیس افسران کو درپیش غیر معمولی سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ الاؤنس کی منظوری کا مقصد ہائی رسک اضلاع میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کو اضافی مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C