27/September/2026

سوڈانی فوج کے سربراہ البرہان کا جنگ بندی سے انکار، امریکا سے کشیدگی کے دوران اخوان المسلمون سے تعلقات پھر زیرِ بحث

👁️ 49 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سوڈانی فوج کے سربراہ البرہان کا جنگ بندی سے انکار، امریکا سے کشیدگی کے دوران اخوان المسلمون سے تعلقات پھر زیرِ بحث

سوڈانی فوج کے سربراہ البرہان کا جنگ بندی سے انکار، امریکا سے کشیدگی کے دوران اخوان المسلمون سے تعلقات پھر زیرِ بحث

خرطوم (ڈیلی اردو) سوڈان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کے درمیان فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا یہ مؤقف واشنگٹن کی جانب سے 90 روزہ انسانی جنگ بندی کے لیے دباؤ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکی ویزے سے متعلق تنازع کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

خرطوم میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے البرہان نے کہا کہ سوڈانی فوج ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھے گی۔ انہوں نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کسی ملک کی اجازت یا دباؤ کا محتاج نہیں اور ان کی حکومت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا سوڈان میں فوری انسانی جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، مستقل جنگ بندی اور اس کے بعد سویلین قیادت میں سیاسی عمل کے لیے علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کوششیں کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق 90 روزہ جنگ بندی اس منصوبے کا ابتدائی مرحلہ ہے۔

البرہان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا جانے کا معاملہ بھی اسی تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے ان کے ویزے کے معاملے کو مجوزہ 90 روزہ جنگ بندی سے جوڑے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ سوڈانی حکومت نے اقوام متحدہ سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ سوڈانی مسلح افواج، ریپڈ سپورٹ فورسز اور دونوں فریقوں کی قیادت ملک پر آئینی یا جائز حکمرانی کی نمائندگی نہیں کرتی۔ واشنگٹن نے دونوں متحارب دھڑوں پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

اخوان المسلمون سے تعلقات کا معاملہ

البرہان کے حالیہ جنگی مؤقف کے ساتھ سوڈان کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں اخوان المسلمون سے وابستہ عناصر کے کردار کا معاملہ بھی دوبارہ زیرِ بحث آیا ہے۔ امریکی حکام نے سوڈان کے مستقبل کے سیاسی عمل میں مسلح اور انتہا پسند گروہوں سمیت بعض عناصر کو شامل نہ کرنے کی بات کی ہے، جبکہ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ جنگ کے بعد ملک کی حکمرانی کا فیصلہ سوڈانی عوام کی شمولیت سے ہونا چاہیے۔

البتہ البرہان اور اخوان المسلمون کے درمیان تعلقات یا موجودہ جنگ میں ان کے کردار سے متعلق مختلف سیاسی فریق اور مبصرین الگ الگ دعوے کرتے ہیں، اس لیے ان دعوؤں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

سوڈان میں جنگ اپریل 2023 میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس تنازع نے ملک میں بڑے پیمانے پر بے گھر ہونے اور شدید انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں جنگ بندی کی متعدد کوششیں مستقل پیش رفت حاصل نہیں کرسکیں۔

ہیش ٹیگز:
 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C