27/September/2026

نورستان واقعہ: پاکستان نے افغان وزارت دفاع کے الزامات مسترد کر دیے

👁️ 44 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
نورستان واقعہ: پاکستان نے افغان وزارت دفاع کے الزامات مسترد کر دیے

نورستان واقعہ: پاکستان نے افغان وزارت دفاع کے الزامات مسترد کر دیے

کابل/ اسلام آباد(ڈیلی اردو) پاکستان نے افغانستان کے صوبہ نورستان میں ہونے والی مبینہ سکیورٹی کارروائی سے متعلق افغان وزارت دفاع کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور شواہد سے عاری قرار دیا ہے۔

افغان وزارت دفاع کے مطابق نورستان کے ضلع کامدیش کے قریب ایک کارروائی کے دوران 28 افراد ہلاک جبکہ 32 کو گرفتار کیا گیا۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ گرفتار اور ہلاک ہونے والے افراد میں ایسے عناصر شامل تھے جنہیں پاکستان میں تربیت دی گئی اور بعد ازاں افغانستان بھیجا گیا تاکہ وہاں تخریبی سرگرمیاں انجام دی جا سکیں۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک ونگ نے افغان دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نورستان میں ہونے والے واقعات کو پاکستان سے جوڑنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان پر لگائے گئے الزامات حقائق پر مبنی نہیں اور انہیں شواہد سے ثابت نہیں کیا گیا۔

پاکستان نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا ہے جن میں پاکستانی سکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں پر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت، سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو مبینہ طور پر بھرتی اور تربیت دینے یا داعش سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

افغان وزارت دفاع کا مؤقف ہے کہ کارروائی میں مارے جانے والے اور گرفتار کیے گئے افراد میں بعض کا تعلق داعش سے تھا اور وہ دیگر مسلح عناصر کے ہمراہ مبینہ طور پر پاکستان کی حمایت سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ افغان حکام کے مطابق ان عناصر کا مقصد ملک میں بدامنی اور تخریبی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔

پاکستانی فیکٹ چیک حکام نے اپنے ردعمل میں کہا کہ افغانستان میں مختلف شدت پسند تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق کسی بھی گروہ کی سرگرمیوں کو پاکستان سے منسلک کرنے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہیں۔

پاکستانی حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں چند غیر مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں اور ان کے پاس ایسی کوئی نمایاں عسکری سازوسامان موجود نہیں جس سے افغان حکام کے دعووں کی تصدیق ہو سکے۔

وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک ونگ نے افغان طالبان حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ اپنی داخلی سکیورٹی سے متعلق مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے رہی ہے۔ پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود شدت پسند گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کریں اور اس یقین دہانی کو عملی طور پر یقینی بنائیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

افغان وزارت دفاع کا مؤقف

افغان وزارت دفاع نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ کارروائی میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل تھی، جنہیں مبینہ طور پر پاکستان میں تربیت دی گئی اور بعد میں افغانستان واپس بھیجا گیا۔

افغان حکام کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد افراد ہلاک اور درجنوں گرفتار ہوئے، جبکہ بعض افراد کارروائی کے بعد سرحد پار فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

افغان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ افغان حکام نے خطے کے دیگر ممالک سے بھی ایسی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی اپیل کی ہے جنہیں کابل خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C