11/August/2026

مجتبیٰ خامنہ ای سے سات گھنٹے ملاقات، ’مکمل صحت مند تھے‘، ایرانی صدر کا دعویٰ

👁️ 73 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مجتبیٰ خامنہ ای سے سات گھنٹے ملاقات، ’مکمل صحت مند تھے‘، ایرانی صدر کا دعویٰ

مجتبیٰ خامنہ ای سے سات گھنٹے ملاقات، ’مکمل صحت مند تھے‘، ایرانی صدر کا دعویٰ

واشنگٹن/تہران (ڈیلی اردو رپورٹ)  ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے اپنی حالیہ ملاقات میں تقریباً سات گھنٹے تک ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، جبکہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند روز سے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے تشویشناک دعوے اور متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

ایرانی صدر نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے دوران عوام کی معاشی صورتحال، روزگار، رہائش، ایران پر عائد پابندیاں، حکومت اور عوام کی جانب سے ’استقامت‘ کا طریقۂ کار، قومی اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مسعود پزشکیان کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے ملاقات کے دوران قومی اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا اور خبردار کیا کہ ایران کے دشمنوں کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ملک کے اندر اختلافات اور تفرقہ پیدا کرنا ہے۔

ایرانی صدر نے مجتبیٰ خامنہ ای کی جسمانی حالت کے بارے میں کہا کہ وہ ملاقات کے دوران ’’جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند‘‘ تھے۔

یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے ان کی کوئی واضح عوامی آواز یا مصدقہ ویڈیو منظرعام پر نہیں آئی۔ ان کی سرکاری ویب سائٹ پر بعض احکامات اور تحریری بیانات شائع کیے گئے ہیں، تاہم مسعود پزشکیان کے علاوہ کسی اور اعلیٰ سرکاری عہدے دار کی جانب سے ان سے بالمشافہ ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای اور مسعود پزشکیان کی حالیہ ملاقات کی خبر سب سے پہلے سپریم لیڈر کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔

ایرانی صدر نے اس سے قبل 6 مئی کو بھی کہا تھا کہ ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے تقریباً ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات ہوئی تھی۔

ایرانی مسلح افواج میں اہم تقرریاں

مجتبیٰ خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے احکامات کے مطابق ایرانی مسلح افواج میں بھی متعدد اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

ایک حکم کے تحت خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی کو ایران کی مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ عبدالرحیم موسوی کی جگہ لیں گے، جو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

حکم نامے کے مطابق جنرل علی عبداللہی کی اہم ذمہ داریوں میں مسلح افواج کو خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز کے تحت مربوط کرنا بھی شامل ہے۔

ایک اور حکم کے تحت کیومرث حیدری کو مسلح افواج کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز کے نائب کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

اسی سلسلے میں احمد وحیدی کو پاسداران انقلاب اسلامی کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے جنوری میں احمد وحیدی کو اس منصب پر تعینات کیا تھا۔

مصطفیٰ ایزدی کو پاسداران انقلاب کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب مصطفیٰ طائب کو بسیج کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ غلام رضا سلیمانی کی جگہ لیں گے، جو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ مصطفیٰ طائب اس سے قبل بھی بسیج کی قیادت کر چکے ہیں۔

ان تقرریوں کو ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کی ازسرنو تشکیل کے سلسلے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق متضاد اطلاعات

ایرانی صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کے مکمل صحت مند ہونے کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ایرانی اور غیر ملکی میڈیا میں ان کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک اطلاعات نشر ہوئی تھیں۔

ایران وائر نے مسعود پزشکیان کی انتظامیہ کے قریب سمجھے جانے والے دو ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت انتہائی نازک ہے اور وہ کسی بھی وقت انتقال کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی تین ذرائع کے حوالے سے مجتبیٰ خامنہ ای کے شدید زخمی ہونے سے متعلق تفصیلات رپورٹ کی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو تہران میں سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے ایک حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہوئے تھے۔ اسی حملے میں ان کے والد اور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے تھے۔

رائٹرز کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے کو شدید نقصان پہنچا تھا جبکہ ان کی ایک یا دونوں ٹانگوں پر بھی شدید چوٹیں آئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق حملے میں ان کے خاندان کے بعض دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور نواسی بھی ہلاک ہوئے۔

تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودہ طبی حالت، ان کے زخموں کی نوعیت اور ان کے ممکنہ انتقال سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ ایرانی حکومت کی جانب سے بھی ان کی انتہائی تشویشناک حالت یا موت کے خدشے کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عوامی سطح پر مسلسل عدم موجودگی

مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عرصے سے عوامی سطح پر عدم موجودگی نے بھی ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے اور ان کی کوئی واضح اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ جاری نہیں کی گئی۔ ان کی جانب سے اب تک بنیادی طور پر تحریری بیانات اور سرکاری احکامات سامنے آتے رہے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق شدید زخمی ہونے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای اہم حکومتی امور میں پس پردہ کردار ادا کر رہے ہیں اور اعلیٰ حکام سے آڈیو رابطے کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں۔

تاہم ان کی جسمانی حالت اور روزمرہ سرگرمیوں کے بارے میں ایرانی حکومت کی جانب سے تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

والد کی نماز جنازہ میں بھی عدم شرکت

مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی اس وقت بھی نمایاں ہوئی جب ان کے والد اور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور آخری رسومات ادا کی گئیں۔

معتبر رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نماز جنازہ اور آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ ان کے بھائی مصطفیٰ، میثم اور مسعود جنازے میں موجود تھے۔

ان کی عدم شرکت نے ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ کیا، تاہم ایرانی حکام نے اس وقت ان کی غیر موجودگی کو سکیورٹی خدشات سے جوڑا تھا۔ اس لیے جنازے میں شرکت نہ کرنے کو ان کی طبی حالت کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایران وائر کا تشویشناک دعویٰ

ایران وائر کی تازہ رپورٹ میں مسعود پزشکیان کی انتظامیہ کے قریب سمجھے جانے والے دو ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور ان کی موت کسی بھی وقت واقع ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں تاہم ان کی بیماری یا موجودہ طبی حالت کی مخصوص طبی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایران وائر کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل غیر حاضری نے ایرانی سیاسی حلقوں میں بھی ان کی صحت، سرگرمیوں اور فیصلہ سازی میں کردار کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں۔

سپریم لیڈر بننے کے بعد قیادت کا نیا مرحلہ

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کی سپریم لیڈر شپ سنبھالی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان کی تقرری مارچ 2026 میں مجلس خبرگان کی جانب سے کی گئی، جبکہ اس سے قبل ایک عبوری کونسل نے عارضی طور پر سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

ایران میں سپریم لیڈر کی تبدیلی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ملک شدید علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال سے دوچار تھا۔ علی خامنہ ای کی کئی دہائیوں پر محیط قیادت کے خاتمے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے سیاسی، عسکری اور سکیورٹی نظام میں تسلسل برقرار رکھنے کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

نئی قیادت کے دور میں ایرانی مسلح افواج اور پاسداران انقلاب میں ہونے والی حالیہ اہم تقرریاں بھی اس عمل کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔

سرکاری تصدیق کا فقدان

مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی مختلف رپورٹس کے باوجود ایرانی حکومت نے ان کے چہرے یا ٹانگوں پر شدید چوٹوں، انتہائی نازک طبی حالت یا ممکنہ موت سے متعلق دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

اسی طرح ان کی صحت کے حوالے سے ایران وائر اور رائٹرز کی رپورٹس میں بیان کردہ معلومات ذرائع سے منسوب دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس کے برعکس ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جسمانی طور پر مکمل صحت مند تھے اور دونوں نے تقریباً سات گھنٹے تک ملک کے اہم سیاسی، معاشی اور سکیورٹی معاملات پر گفتگو کی۔

یوں ایک جانب مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عوامی عدم موجودگی اور ان کی صحت سے متعلق غیر سرکاری رپورٹس سوالات کو جنم دے رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی صدر کا تازہ بیان ان دعوؤں کے برعکس ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔

جب تک ایرانی حکومت کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں مزید واضح اور قابلِ تصدیق معلومات سامنے نہیں آتیں، ان کی طبی حالت سے متعلق مختلف دعووں کو احتیاط کے ساتھ ذرائع سے منسوب کرتے ہوئے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C